ایران کی فوجی صلاحیتیں تباہ کر دیں، کسی بھی ہنگامی صورت حال کے لیے تیار ہیں : سینٹ کام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی مرکزی کمان "سینٹ کام" نے تصدیق کی ہے کہ وہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو "جہاز رانی کی آزادی کو خطرے میں ڈالنے کے لیے بطور ہتھیار" استعمال کرنے کی وجہ سے اس کا "محاصرہ" کر رہی ہے۔ ساتھ ہی اشارہ کیا گیا ہے کہ امریکی افواج خطے میں کسی بھی ہنگامی منصوبے کے لیے تیار ہیں جو ان سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

امریکی مرکزی کمان کے ترجمان کرنل ٹموتھی ہاکنز نے "العربیہ" کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ امریکی افواج نے "ایران پر محاصرہ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 80 سے زائد جہازوں کے راستے تبدیل کیے ہیں"۔ انہوں نے اصرار کیا کہ امریکہ "ہر اس چیز کی باریک بینی سے نگرانی کر رہا ہے جسے ایرانی اندر لانے یا باہر لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں"۔

ہاکنز نے مزید کہا کہ امریکی افواج "کسی بھی ہنگامی منصوبے کے لیے تیار ہیں جو ان سے طلب کیا جائے گا"۔

ترجمان نے زور دیا کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی آپریشنز "انتہائی مؤثر" رہے ہیں۔ انھوں نے واضح کیا کہ امریکہ نے تصادم کے آغاز سے اپنے مقرر کردہ فوجی اہداف حاصل کر لیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ نے "بڑے پیمانے پر ایرانی فوجی صلاحیتوں کو تباہ کر دیا ہے"، جس میں "ایران کی فوجی صنعتی صلاحیت" بھی شامل ہے۔ مزید یہ کہ تہران کی میزائل اور ڈرون داغنے کی صلاحیت "شدید حد تک کم ہو گئی ہے"۔

ترجمان نے یہ بھی مانا کہ "ایران کی دھمکی دینے کی صلاحیت اب ویسی نہیں رہی جیسی پہلے تھی"۔ انھوں نے واضح کیا کہ امریکی افواج نے گذشتہ عرصے کے دوران خطے میں فضائی دفاعی نظام کو مضبوط کرنے کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔

ہاکنز نے ایران پر "شہریوں کے خلاف جان بوجھ کر حملے" کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ ایرانی افواج نے "ایران کے اندر گنجان آباد علاقوں" سے میزائل داغے ہیں۔

امریکی "سینٹ کام" کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں بڑھتے ہوئے تناؤ کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے جس نے جہاز رانی کی نقل و حرکت اور توانائی کی عالمی مارکیٹوں کو متاثر کیا ہے۔ یہ آبنائے دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں سے ایک ہے، کیونکہ یہاں سے عالمی سطح پر تیل کی برآمدات کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ حالیہ دھمکیوں اور حملوں نے جہاز رانی اور توانائی کی متعدد کمپنیوں کو اپنے سمندری راستوں کا دوبارہ جائزہ لینے پر مجبور کر دیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے حال ہی میں چین سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے بڑا کردار ادا کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کا استحکام خلیجی تیل پر بیجنگ کے گہرے انحصار کی وجہ سے براہ راست اس کے مفاد میں ہے۔

ترجمان "سینٹ کام" نے یہ بھی انکشاف کیا کہ امریکی آپریشنز نے "ایران کے شراکت داروں کو ہتھیاروں کی سپلائی لائنیں کاٹنے" میں مدد کی ہے، جس سے مراد خطے میں تہران کی حمایت یافتہ مسلح تنظیمیں ہیں۔

یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب علاقائی اور بین الاقوامی ثالثوں کے ذریعے تصادم کے پھیلاؤ کو روکنے کی سفارتی کوششیں جاری ہیں، جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان نازک جنگ بندی کے خاتمے کے خدشات اب بھی موجود ہیں۔

امریکی انتظامیہ کی جانب سے سفارتی راستے کے تسلسل کی تصدیق کے باوجود، حالیہ فوجی بیانات خلیج میں الرٹ کی صورتحال برقرار رہنے کی عکاسی کرتے ہیں، جس میں فوجی کشیدگی کے امکانات بدستور کھلے ہیں اگر موجودہ پُر امن کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں