غزہ فلوٹیلا کو روکنے پر پاکستان سمیت دس ممالک کی اسرائیلی مداخلت کی مذمت

گرفتار کارکنان کی فوری رہائی کا مطالبہ، پاکستان کے سعد ایدھی بھی شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

پاکستان اور نو دیگر ممالک نے بین الاقوامی پانیوں میں غزہ جانے والے امدادی فلوٹیلا کو روکنے کے لیے تازہ ترین اسرائیلی مداخلت کی مذمت کی اور زیرِ حراست کارکنان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے جن میں انسانی ہمدردی کے ایک پاکستانی کارکن بھی شامل ہیں۔

پاکستان، ترکی، بنگلہ دیش، برازیل، کولمبیا، انڈونیشیا، اردن، لیبیا، مالدیپ اور سپین کے وزراء خارجہ نے منگل کو مشترکہ بیان جاری کیا جس میں غزہ میں انسانی بحران کی طرف توجہ مبذول کروانے کے شہری اقدام "گلوبل صمود فلوٹیلا" پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی گئی۔

اسرائیلی افواج نے قبرص کے قریب فلوٹیلا کو روکا اور درجنوں بین الاقوامی کارکنان کو حراست میں لے لیا جس کے ایک دن بعد یہ بیان سامنے آیا ہے۔ پاکستان کی ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق ان میں پاکستانی کارکن سعد ایدھی بھی شامل ہیں۔

تازہ ترین اسرائیلی کارروائی سے چھاپوں کا یہ انداز نمایاں ہوتا ہے جو بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تنقید کا باعث بنا ہے اور نقل و حمل کی آزادی اور غزہ کی بحری ناکہ بندی کی قانونی حیثیت پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا، "وزراء شدید تشویش کے ساتھ بین الاقوامی پانیوں میں سابقہ بحری جہازوں کے خلاف اسرائیلی مداخلتوں کو یاد کرتے ہیں اور شہری جہازوں اور انسانی ہمدردی کے کارکنان کو نشانہ بنانے والی مخاصمانہ کارروائیوں کے تسلسل کی مذمت کرتے ہیں۔ ایسے حملے بشمول جہازوں پر اور کارکنوں کی من مانی حراست بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔"

تمام دس ممالک نے شہری شرکاء کی حفاظت پر "شدید تشویش" کا اظہار کیا اور تمام زیرِ حراست کارکنان کی فوری رہائی پر زور دیا۔

سعد ایدھی جو پاکستان کی معروف مخیر شخصیت عبدالستار ایدھی کے پوتے اور پاکستان کے سب سے بڑے خیراتی نیٹ ورک ایدھی فاؤنڈیشن کا حصہ ہیں، غزہ کے شہریوں کے لیے ادویات، خشک خوراک اور بچوں کے فارمولا دودھ سمیت دیگر انسانی امداد لے جانے والے فلوٹیلا میں شامل ہوئے تھے۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پرامن انسانی مشنز کے خلاف اسرائیل کے بار بار حملے "بین الاقوامی قانون اور نقل و حمل کی آزادی سے مسلسل اغماض" کی عکاسی کرتے ہیں اور احتساب کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی برادری پر زور دیا۔

دریں اثنا اسرائیل نے غزہ پر اپنی بحری ناکہ بندی نافذ کرنے کے لیے ایسی مداخلتوں کا دفاع کیا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا، تازہ ترین کارروائی کا مقصد "بدنیتی پر مبنی ایک ایسے منصوبے کو بے اثر کرنا تھا جو غزہ میں حماس کے دہشت گردوں پر مسلط کردہ تنہائی کو توڑنے کے لیے بنایا گیا"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں