ٹرمپ انتظامیہ میں احمدی نژاد کو ایران کی قیادت دلانے کی تجویز زیر غور رہی:نیویارک ٹائمز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی اخبار رساں ادارے ''نیویارک ٹائمز'' نے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد کی رہائش گاہ کو جنگ کے آغاز میں نشانہ بنانے والی اسرائیلی کارروائی کا مقصد انہیں نظر بندی سے آزاد کرانا تھا۔

رپورٹ کے مطابق اس حملے میں احمدی نژاد کے محافظوں کو ہدف بنا کر انہیں رہا کرنے کی کوشش کی گئی۔

اخبار نے مزید دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی ایک ایسے امریکی اور اسرائیلی منصوبے کا حصہ تھی، جس کا مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی اور محمود احمدی نژاد کو دوبارہ اقتدار میں لانا تھا۔



امریکی حکام کے مطابق یہ منصوبہ اس وقت ناکام ہو گیا ،جب حملے میں محمود احمدی نژاد زخمی ہو گئے، جبکہ ان کے موجودہ مقام کے بارے میں اب بھی کوئی معلومات سامنے نہیں آئیں۔

نیویارک ٹائمز نے مزید بتایا کہ ایرانی حکام نے احمدی نژاد پر مغرب کے ساتھ تعاون اور اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔

تاہم رپورٹ کے مطابق یہ اب تک واضح نہیں ہو سکا کہ انہیں مبینہ طور پر کیسے بھرتی کیا گیا۔

ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد کی جماعت نے مارچ کے آغاز میں ان خبروں کی تردید کی تھی ،جن میں ان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

اس سے قبل ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ''ایلنا'' نے رپورٹ کیا تھا کہ 69 سالہ احمدی نژاد تہران پر ہونے والے ایک فضائی حملے میں مارے گئے۔

ایجنسی کے مطابق وہ مشرقی تہران میں واقع اپنی رہائش گاہ پر اپنے ذاتی محافظ کے ہمراہ موجود تھے جب حملہ کیا گیا، جس میں دونوں ہلاک ہو گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں