سعودی عرب میں 10 لاکھ کافی کے درختوں کے ساتھ پہاڑی معیشت کا فروغ

14 اضلاع میں سال 2022 اور 2025 کے درمیان کافی کے 634 ہزار سے زیادہ درخت لگائے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

سعودی عرب "پہاڑی معیشت" کے نام سے موسوم تصور کو نافذ کرنے کے لیے ایک طے شدہ منصوبے اور تیز رفتار قدموں کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ اس کا مقصد کافی (بُن) کی پیداوار کے ذریعے اپنی بین الاقوامی موجودگی کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ اقدامات آمدنی کے ذرائع کو متنوع بنانے کے منصوبوں کے دائرے میں کیے جا رہے ہیں۔

مملکت رواں سال 2026 سے 2028 تک کی مدت کے دوران جنوبی سعودی عرب کے علاقے عسیر میں کافی کے دس لاکھ درخت لگانے کا ہدف بنایا ہے جو پودوں کے احاطے (گرین کور) کو فروغ دینے کے فریم ورک کے تحت پہاڑی معیشت کے ایجنڈے پر عمل درآمد کے لیے ایک نمایاں جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے۔

علاقے میں کافی کی ایسوسی ایشن نے گرین کور کی ترقی اور صحرا زدگی کے خاتمے کے قومی مرکز کے ساتھ شراکت داری میں پیداواری پہاڑوں کی ترقی کے اقدام "پہاڑی معیشت" کے تحت ایک پروگرام شروع کرنے کا انکشاف کیا ہے۔ یہ پروگرام قدرتی وسائل کی پائیداری کو فروغ دیتا، کسانوں کو بااختیار بناتا اور پہاڑی اضلاع کی معیشت کو ترقی دیتا ہے۔

634 ہزار سے زیادہ درختوں کی کاشت

یہ رجحان اس تیز رفتار ترقی کے تسلسل کے طور پر سامنے آیا ہے جو گزشتہ برسوں کے دوران کافی کے شعبے میں دیکھی گئی۔ سال 2022 اور 2025 کے درمیان کافی کے 634 ہزار سے زیادہ درخت لگائے گئے۔ یہ ایک ایسا اشاریہ ہے جو اس شعبے میں زرعی سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے رجحان اور پہاڑی علاقوں کے 14 اضلاع میں پھیلے ہوئے 7000 ہیکٹر سے زیادہ رقبے پر اس کی کاشت کے دائرہ کار کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔

تخمینوں کے مطابق کافی کے شعبے کی سالانہ پیداواری صلاحیت تقریباً 1500 ٹن چیری کافی (کچی کافی) اور 500 ٹن خالص سبز کافی تک پہنچ چکی ہے جو ویلیو ایڈڈ زرعی صنعت کی تعمیر کے مواقع کو بڑھاتی ہے۔ خاص طور پر عالمی منڈیوں میں اعلیٰ معیار کی کافی کی بڑھتی ہوئی مانگ اور مقامی مصنوعات میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کے پیش نظر مواقع بڑھ رہے ہیں۔

کافی کی کاشت میں توسیع کے مقامی برادریوں پر براہ راست اقتصادی اثرات مرتب ہوتے ہیں کیونکہ فعال فارمز کی تعداد بڑھ کر 1400 فارمز تک پہنچ گئی ہے۔ ان کی تعداد میں مسلسل اضافے کے تخمینے ہیں۔ اس سے دیہی خاندانوں کی آمدنی کی سطح بلند ہوتی ہے، روزگار کے مواقع فراہم ہوتے ہیں اور پہاڑی اضلاع میں اقتصادی سرگرمیاں متحرک ہوتی ہیں۔ اس کاشت سے شہروں کی طرف ہجرت میں بھی کمی آتی ہے۔

عسیر میں کافی کا شعبہ اقدامات کا ایک ایسا پیکیج تیار کر رہا ہے جس میں زرعی انفراسٹرکچر کی تعمیر، ویلیو چینز کی ترقی، کسانوں کی کارکردگی کو بڑھانا اور پیداوار کے معیار اور اس کی پائیداری کو بہتر بنانا شامل ہے۔ اس پیکج کا مقصد یہ ہے کہ سعودی مصنوعات کی مسابقت کو بڑھایا جا سکے اور یکساں طور پر مقامی اور عالمی سطح پر وسیع تر مارکیٹنگ چینلز کھولے جا سکیں۔

شعبے میں ایک معیاری تبدیلی

عسیر کے علاقے میں کافی ایسوسی ایشن کی صدر، نورا آل عائض نے بات کی ہے کہ یہ پروگرام کافی کے شعبے میں ایک معیاری تبدیلی کی نمائندگی کر رہا ہے اور اسے تاسیس کے مرحلے سے توسیع اور پائیداری کے مرحلے کی طرف لے جاتا ہے۔ اس سے قومی زرعی معیشت میں اس علاقے کا کردار مضبوط ہوتا ہے اور ایک ایسا مربوط ترقیاتی ماڈل قائم ہوتا ہے جو ماحول، معیشت اور انسان کو یکجا کرتا ہے۔

عسیر کا علاقہ کافی کی کاشت اور مقامی و بین الاقوامی سطح پر اس کی مارکیٹنگ کے طریقہ کار کو فروغ دینے اور تیار کرنے کے لیے کئی سالانہ سرگرمیوں کی میزبانی کرتا ہے جن میں سب سے نمایاں رجال المع ضلع میں کافی کا فیسٹیول ہے جس کا تیسرا سیزن اپریل کے آخر میں منعقد ہوا تھا۔ اس میں عسیر، جازان اور الباحہ سے 15 تجارتی برانڈز اور 30 کسانوں کی شرکت کے ساتھ 10 ٹن کافی کی نمائش شامل کی گئی تھی۔ اس میں مقامی سعودی کافی کی پیداوار سے 17 مخصوص فصلیں پیش کی گئی تھیں۔

اس فیسٹول میں سعودی کافی کی پہلی نیلامی منعقد کی گئی جس کی قیمت 1400 ریال فی کلو تک پہنچ گئی اور فیسٹیول نے کافی کی معیشت پر ایک خصوصی ورکشاپ کے ساتھ ساتھ 3 مکالماتی نشستوں کی میزبانی کی۔ اس کے دوران 3 شراکت داریوں کے معاہدوں پر دستخط ہوئے جن میں اس شعبے کی حقیقت اور اس کی ترقی کے مواقع پر بات چیت کی گئی۔ دس لاکھ سعودی کافی کے درختوں کی کاشت کا پروگرام ایک مربوط قومی ماڈل کی تعمیر کی طرف ایک قدم کی عکاسی کرتا ہے جو ماحولیاتی، اقتصادی اور انسانی پہلوؤں کو یکجا کرتا ہے اور آمدنی کے ذرائع کو متنوع بنانے اور غیر تیل کی برآمدات کو مدد دینے میں حصہ ڈالتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں