القدس میں ''صومالی لینڈ'' کاسفارت خانہ کھولنے کی کوشش
13 ممالک کی مذمت پر صومالیہ کا خیرمقدم
صومالیہ نے اتوار کے روز 13 ممالک کے مشترکہ بیان کا خیرمقدم کیا، جس میں سعودی عرب، قطر اور مصر سمیت کئی ممالک نے ''صومالی لینڈ'' کی جانب سے القدس میں سفارت خانہ کھولنے کے اعلان کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔
2025 کے آخر میں اسرائیل، صومالی لینڈ کو ''آزاد اور خودمختار ریاست'' تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا تھا۔
صومالی لینڈ نے 1991 میں صومالیہ سے علیحدگی کا یکطرفہ اعلان کیا تھا، جس پر مقدیشو نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔
19 مئی کو اسرائیل میں تعینات صومالی لینڈ کے سفیر محمد عمر حاجی محمود نے اعلان کیا تھا کہ ''جمہوریہ صومالی لینڈ کا سفارت خانہ القدس میں ہوگا'' اور اسے جلد کھول دیا جائے گا، تاہم مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔
اتوار کو جاری مشترکہ بیان میں صومالیہ کے ساتھ سعودی عرب، قطر، مصر، سوڈان، یمن، جبوتی اور انڈونیشیا سمیت 13 ممالک نے ''صومالیہ کے وفاقی جمہوریہ کے شمال مغربی علاقے، نام نہاد صومالی لینڈ، کی جانب سے مقبوضہ القدس میں نام نہاد سفارت خانہ کھولنے کے غیرقانونی اور ناقابل قبول اقدام '' کی شدید مذمت کی۔
صومالی وزارتِ خارجہ نے اس حمایت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ملک اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی یکطرفہ اقدام کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔
واضح رہے کہ صومالی لینڈ نے 1991 میں جب صومالیہ فوجی حکمران سیاد بری کے اقتدار کے خاتمے کے بعد خانہ جنگی اور بدامنی کا شکار ہوا، خود کو آزاد ریاست قرار دیا تھا۔
اس کے بعد سے یہ خطہ عملی طور پر الگ انتظام چلا رہا ہے اور اس کی اپنی کرنسی، فوج اور پولیس موجود ہے۔