متبادل راستوں کی تلاش سے پہلے ایران کے ساتھ سفارت کاری کو کامیابی کا پورا موقع دیں گے

امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ طے پانا آج بھی ممکن ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبيو نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کا طے پانا "پیر کے روز بھی ممکن ہے" اور کسی بھی معاہدے میں تہران کے خلاف اسرائیل کو اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔ انہوں نے نیو دہلی کے سرکاری دورے کے بعد وہاں سے روانگی کے وقت صحافیوں کو بتایا کہ واشنگٹن متبادل راستے اختیار کرنے سے پہلے سفارت کاری کو کامیابی کا پورا موقع دے گا، تاہم اگر یہ ناکام ہوئی تو معاملے سے دوسرے طریقے سے نمٹا جائے گا۔ لبنان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر حزب اللہ اسرائیل پر راکٹ داغے گی تو اسرائیل کو جواب دینے کا پورا حق ہے۔

ممکنہ معاہدے کے بارے میں مارکو روبيو کا کہنا تھا کہ اس وقت میز پر ایک انتہائی مضبوط تجویز موجود ہے، جس کے تحت ایران آبنائے ہرمز کو کھولے گا اور جوہری مسئلے پر ایک مخصوص مدت کے مذاکرات کا آغاز کرے گا۔ اس سے قبل اتوار کو انہوں نے واضح کیا تھا کہ جوہری مذاکرات انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہوتے ہیں جنہیں 72 گھنٹوں میں حل نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے واشنگٹن کے مطابق تہران کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی اس ممکنہ مفاہمت میں فی الحال جوہری معاملہ شامل نہیں ہے۔ خطے کے سات یا آٹھ ممالک اس طریقہ کار کی حمایت کر رہے ہیں۔

گذشتہ ہفتے سے واشنگٹن اور تہران 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے مفاہمت کی امیدیں ظاہر کر رہے ہیں۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق 14 شقوں پر مشتمل ایک مفاہمت نامے پر کام جاری ہے جو تمام محاذوں پر جنگ بندی سے متعلق ہے، جبکہ جوہری فائل جیسے بڑے اختلافی نکات کو اگلے 30 سے 60 دنوں کے لیے مؤخر کر دیا جائے گا۔ تاہم اتوار کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے نمائندوں کو ہدایت کی کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کی جائے کیونکہ وقت ان کے حق میں ہے۔ مارکو روبيو نے مزید کہا کہ اس متوقع مفاہمت سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے امریکی خدشات دور ہوں گے اور یہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس نظریے کی شروعات ہوگی جس میں دنیا کو ایرانی جوہری ہتھیاروں کا کوئی خوف نہ رہے۔

دوسری طرف اس ممکنہ معاہدے کو ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں، مثلا سینیٹر ٹڈ کروز اور سابق وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے جو ایران کو تیل کی فروخت جیسی مراعات دینے کے مخالف ہیں۔ ٹڈ کروز نے اسے ایک "تباہ کن غلطی" قرار دیا۔ ان تنقیدوں کے جواب میں مارکو روبيو نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف ڈونلڈ ٹرمپ سے زیادہ مضبوط کوئی صدر نہیں رہا اور "ایپک فیوری" آپریشن کے ذریعے ایران کی بحری طاقت کو تباہ کرنے، بیلسٹک میزائلوں کی صلاحیت کو کم کرنے اور ان کی دفاعی صنعتی بنیاد کو نقصان پہنچانے کے بنیادی اہداف کامیابی سے حاصل کیے جا چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں