داعش سے وابستہ 19 خواتین اور بچوں کا قافلہ آسٹریلیا پہنچے گا

متعدد کو مقدمات کا سامنا کرنے کا اندیشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

19 آسٹریلین خواتین اور بچوں کو شام سے واپس آسٹریلیا بھیجا جا رہا ہے۔ ان سب کا تعلق داعش سے بتایا گیا ہے۔ آسٹریلیا کی حکومت کے مطابق ان میں سے بعض کی واپسی پر مقدمات بھی چلائے جا سکتے ہیں۔

داعش سے وابستہ رہنے کے الزام کے ساتھ واپس آنے والے اس آسٹریلین داعشی قافلے میں 7 خواتین اور 12 بچے شامل ہیں۔ جو منگل کے روز سڈنی اور ملیبورن میں اترنے والے ہیں۔ 3 ہفتوں سے بھی کم دورانیے میں داعش سے مبینہ وابستگان کی آسٹریلیا واپسی کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل 13 افراد کو اسی طرح کے الزامات کے ساتھ واپس آسٹریلیا بھیجا گیا تھا۔ ان 13 داعشی افراد کے قافلے میں شامل 7 خواتین کو مقدمات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور وہ آسٹریلیا میں قید کر دی گئی ہیں۔

آسٹریلیا کے داخلہ امور کے وزیر ٹونے برکے نے کہا اب آنے والے 19 افراد میں سے جس کسی نے بھی کوئی جرم کیا ہوگا اسے اس کے لیے عدالت وقانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا حکومت ان لوگوں کو کسی بھی قسم کی معاونت فراہم نہیں کرے گی۔

ٹونی برکے کے مطابق یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے خوفناکی کا انتخاب کیا اور ایک خطرناک دہشت گرد گروہ کا حصہ بنے۔ حتیٰ کہ اپنے بچوں کو بھی ایک ناقابل بیان صورتحال سے دوچار کیا۔

آسٹریلیا کے قانون نافذ کرنے والے اور انٹیلی جنس اداروں نے 2014 سے ان افراد کو واپس لانے کے لیے کوششیں شروع کر دی تھیں۔ ان اداروں نے ان کی نگرانی کا بھی کام کیا۔

ٹونی برکے کا کہنا تھا کہ حکومتی ترجیح ہمیشہ آسٹریلین شہریوں کا تحفظ و سلامتی رہی ہے۔ اب اس قافلے کی آسٹریلیا واپسی کے بعد بھی کم از کم 2 آسٹریلین شہری روج کیمپ میں موجود ہیں۔ یہ کیمپ شام کے شمال مشرقی حصۓ میں عراقی سرحد کے نزدیک ہے جہاں داعش سے جڑے لوگوں کو 2019 سے قید رکھا گیا ہے۔

داعش کو 2019 میں بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور تب سے اس کے وابستگان کو شام و عراق میں جیلوں میں رکھا گیا ہے۔

پچھلے قافلے میں 7 مئی کو واپس آسٹریلیا آنے والے 53 سالہ قسور احمد جو قسور عباس کے نام سے مشہور ہے اسے اس کی بیٹی زینب احمد کے ساتھ میلبورن میں اترتے ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اسی طرح 32 سالہ جینائی سفار کو سڈنی ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا جب وہ اپنے 9 سالہ بچے کے ساتھ شام سے واپس آیا۔ اس پر بھی الزام ہے کہ وہ دہشت گرد گروپ کا حصہ تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں