ایرانی پاسداران انقلاب نے جمعرات کو ایران کی سرزمین پر امریکی حملوں کی تجدید کی صورت میں "فیصلہ کن جواب" کی دھمکی دی ہے۔ یہ دھمکی ملک کے جنوب کو نشانہ بنانے والے ایک امریکی حملے کے بعد سامنے آئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے اپنی متعلقہ ویب سائٹ "سپاہ نیوز" پر جاری ایک بیان میں کہا کہ "اگر اس کارروائی کو دہرایا گیا تو امریکی فوج کو حاسمہ جواب کا سامنا کرنا پڑے گا"۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے "ایکس" پر بتایا کہ "27 مئی کو مشرقی امریکی وقت کے مطابق رات ٹھیک 10:17 بجے ایران نے کویت کی طرف ایک بیلسٹک میزائل داغا، جسے کویتی افواج نے کامیابی سے روک دیا۔ ایرانی حکومت کی جانب سے جنگ بندی کی یہ کھلی خلاف ورزی ایرانی افواج کی طرف سے پانچ یک طرفہ حملہ آور ڈرون طیارے داغنے کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی۔
At 10:17 p.m. ET on May 27, Iran launched a ballistic missile toward Kuwait that was successfully intercepted by Kuwaiti forces. This egregious ceasefire violation by the Iranian regime occurred hours after Iranian forces launched five one-way attack drones that posed a clear…
— U.S. Central Command (@CENTCOM) May 28, 2026
انھوں نے آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں واضح خطرہ پیدا کیا تھا۔ امریکی افواج نے تمام ڈرون طیاروں کو کامیابی سے روک دیا اور بندر عباس میں ایک ایرانی زمینی کنٹرول سائٹ سے چھٹے ڈرون طیارے کو داغنے سے بھی روک دیا"۔مزید کہا گیا کہ "امریکی مرکزی کمانڈ اور اس کے علاقائی شراکت دار الرٹ پوزیشن پر موجود ہیں اور ایران کے بلاجواز جارحانہ اقدامات کے خلاف اپنی افواج اور مفادات کا دفاع کرنے کی مسلسل کوششوں میں چوکسی اور توازن برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں"۔
اس سے قبل ایرانی پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں "بندر عباس کے قریب امریکی جارحیت کے براہ راست جواب میں" ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا اور متنبہ کیا تھا کہ حملوں کی تکرار کا سامنا "زیادہ سخت جواب" سے کیا جائے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ نے جمعرات کو جنوب مغربی ایران کے شہر بندر عباس پر رات کے وقت ہونے والے امریکی حملوں کے بعد جنگ بندی کی امریکی "خلاف ورزیوں" کی مذمت کی ہے۔
یہ تناؤ امریکہ اور ایران کے درمیان اپریل میں نافذ العمل ہونے والی کمزور جنگ بندی کو درپیش خطرات کو نمایاں کرتا ہے، جس نے کسی معاہدے تک پہنچنے کی امیدوں کو کمزور کر دیا ہے اور تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافے کا سبب بنا ہے۔