ایران جنگ

حملوں کی تکرار کی صورت میں پاسداران انقلاب کی واشنگٹن کو "فیصلہ کن جواب" کی دھمکی

امریکہ اور ایران کے درمیان کمزور جنگ بندی کے دوران فوجی تناؤ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایرانی پاسداران انقلاب نے جمعرات کو ایران کی سرزمین پر امریکی حملوں کی تجدید کی صورت میں "فیصلہ کن جواب" کی دھمکی دی ہے۔ یہ دھمکی ملک کے جنوب کو نشانہ بنانے والے ایک امریکی حملے کے بعد سامنے آئی ہے۔

پاسداران انقلاب نے اپنی متعلقہ ویب سائٹ "سپاہ نیوز" پر جاری ایک بیان میں کہا کہ "اگر اس کارروائی کو دہرایا گیا تو امریکی فوج کو حاسمہ جواب کا سامنا کرنا پڑے گا"۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے "ایکس" پر بتایا کہ "27 مئی کو مشرقی امریکی وقت کے مطابق رات ٹھیک 10:17 بجے ایران نے کویت کی طرف ایک بیلسٹک میزائل داغا، جسے کویتی افواج نے کامیابی سے روک دیا۔ ایرانی حکومت کی جانب سے جنگ بندی کی یہ کھلی خلاف ورزی ایرانی افواج کی طرف سے پانچ یک طرفہ حملہ آور ڈرون طیارے داغنے کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی۔

انھوں نے آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں واضح خطرہ پیدا کیا تھا۔ امریکی افواج نے تمام ڈرون طیاروں کو کامیابی سے روک دیا اور بندر عباس میں ایک ایرانی زمینی کنٹرول سائٹ سے چھٹے ڈرون طیارے کو داغنے سے بھی روک دیا"۔مزید کہا گیا کہ "امریکی مرکزی کمانڈ اور اس کے علاقائی شراکت دار الرٹ پوزیشن پر موجود ہیں اور ایران کے بلاجواز جارحانہ اقدامات کے خلاف اپنی افواج اور مفادات کا دفاع کرنے کی مسلسل کوششوں میں چوکسی اور توازن برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں"۔

اس سے قبل ایرانی پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں "بندر عباس کے قریب امریکی جارحیت کے براہ راست جواب میں" ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا اور متنبہ کیا تھا کہ حملوں کی تکرار کا سامنا "زیادہ سخت جواب" سے کیا جائے گا۔

ایرانی وزارت خارجہ نے جمعرات کو جنوب مغربی ایران کے شہر بندر عباس پر رات کے وقت ہونے والے امریکی حملوں کے بعد جنگ بندی کی امریکی "خلاف ورزیوں" کی مذمت کی ہے۔

یہ تناؤ امریکہ اور ایران کے درمیان اپریل میں نافذ العمل ہونے والی کمزور جنگ بندی کو درپیش خطرات کو نمایاں کرتا ہے، جس نے کسی معاہدے تک پہنچنے کی امیدوں کو کمزور کر دیا ہے اور تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافے کا سبب بنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں