ایک صوبائی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہفتے کے روز مشرقی افغانستان میں ایک ٹرک الٹ گیا جس کے باعث 10 بچوں سمیت 18 افراد ہلاک ہو گئے۔
افغانستان میں مہلک ٹریفک حادثات عام ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ کئی عشروں کے تنازعات کے بعد سڑکوں کی مسلسل خراب حالت، خطرناک ڈرائیونگ اور قواعد و ضوابط کی کمی ہے۔
صوبہ لغمان کے گورنر کے ترجمان عبدالمالک نیازے کے مطابق گاڑی میں پاکستان سے واپس آنے والے افغان خاندانوں کو لے جایا جا رہا تھا۔
ترجمان نے کہا، "حادثے میں اٹھارہ افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں 10 بچے، پانچ خواتین اور تین مرد شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 29 افراد زخمی ہوئے ہیں۔"
حادثہ مشرقی افغانستان میں جلال آباد اور دارالحکومت کابل کے درمیان سڑک پر پیش آیا۔
افغان پناہ گزین بڑی تعداد میں پاکستان سے واپس اپنے ملک جا رہے ہیں اور اکثر خاندان اپنے سامان کے ساتھ ٹرکوں میں سفر کرتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین اور بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے اعدادوشمار کے مطابق اس سال اب تک 447,400 افغان تارکینِ وطن پاکستان سے افغانستان واپس آ چکے ہیں۔
مغربی افغانستان میں گذشتہ اگست میں ایران سے واپس آنے والے افغان تارکینِ وطن کی ایک بس اور دو دیگر گاڑیوں کے درمیان خوفناک تصادم ہوا جس
کے نتیجے میں 19 بچوں سمیت 78 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔