مستقبل میں حزب اللہ شمالی اسرائیل کو خطرہ پہنچانے کے قابل نہیں رہے گی: نیتن یاہو
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے حزب اللہ کے خلاف اپنے مؤقف میں مزید سختی لاتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اللہ جلد شمالی اسرائیل کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت کھو دے گی۔
اتوار کو جاری ایک ویڈیو بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ انہوں نے اسرائیلی فوج کو دریائے لیتانی کے شمال میں حزب اللہ کے مبینہ مضبوط ٹھکانوں کے خلاف اپنی موجودگی اور کارروائیوں کو مزید گہرا اور مؤثر بنانے کی ہدایت دی ہے۔
نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران حزب اللہ کے تقریباً 700 جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے۔
ان کے مطابق مسلسل فوجی کارروائیوں کے باعث حزب اللہ کی عسکری صلاحیتوں کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے قلعہ بوفرٹ پر قبضے کو لبنان میں جاری فوجی کارروائی کا فیصلہ کن موڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل حزب اللہ کے فوجی ڈھانچے اور فیلڈ کمانڈروں کو اس وقت تک نشانہ بناتا رہے گا، جب تک شمالی اسرائیل کو درپیش خطرات ختم نہیں ہو جاتے۔
نیتن یاہو نے مزید زور دے کر کہا کہ موجودہ فوجی مہم کا مقصد سرحدی علاقوں کی سکیورٹی صورتحال کو مستقل طور پر تبدیل کرنا ہے تاکہ مستقبل میں اسرائیل کو لاحق خطرات کا سدباب کیا جا سکے۔
کشیدگی کی شدید ترین لہر
اسی دوران لبنانی محاذ پر جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک کی سب سے شدید کشیدگی دیکھی جا رہی ہے، جہاں اسرائیلی زمینی کارروائیاں دریائے لیتانی کے شمال تک پھیل گئی ہیں اور جنوبی لبنان اور وادی بقاع میں فضائی حملے مسلسل جاری ہیں۔
اسرائیلی فوج نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ اس نے صور شہر میں حزب اللہ کے کمانڈ مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔ فوج کی جانب سے ایسی ویڈیوز بھی جاری کی گئی ہیں، جن میں اس کے مطابق اسرائیلی دستوں کو دریائے لیتانی عبور کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جسے مبصرین زمینی کارروائیوں کے ایک نئے اور زیادہ گہرے مرحلے میں داخلے کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
شمال لیتانی تک کارروائیوں کی توسیع
اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کا نیا ہدف صرف دریائے لیتانی کے جنوب میں ایک بفر زون قائم کرنا نہیں، بلکہ اس سے آگے جا کر زیادہ گہرے علاقوں میں فوجی موجودگی مستحکم کرنا ہے، تاکہ حزب اللہ کی صلاحیتوں کو اسرائیلی سرحدوں سے مزید دور کیا جا سکے۔
گزشتہ چند روز کے دوران اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے صور، النبطیہ اور وادی بقاع میں حزب اللہ کے مبینہ ٹھکانوں پر سیکڑوں فضائی حملے کیے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے مطابق صرف 24 گھنٹوں میں 150 سے زائد اہداف اور ڈھانچوں کو نشانہ بنایا گیا۔اسی دوران اسرائیل نے انخلا کے انتباہات کا دائرہ بھی بڑھا دیا ہے، جو اب دریائے الزہرانی کے جنوب کے نئے علاقوں تک پہنچ گیا ہے، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ فوجی کارروائیاں مزید وسیع جغرافیائی دائرے میں پھیل سکتی ہیں۔
جوابی حملوں کا سلسلہ
دوسری جانب حزب اللہ کی جانب سے بھی اسرائیلی اہداف کی طرف راکٹوں اور ڈرونز کے حملے جاری ہیں۔ اسرائیلی فوج نے اس سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ شمالی اسرائیل کے علاقے شلومی کے قریب متعدد بارودی ڈرونز پھٹ گئے، تاہم ان واقعات میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
اسرائیل کے مطابق موجودہ فوجی کارروائیوں کا بنیادی مقصد حزب اللہ کے عسکری خطرے کو ختم کرنا اور شمالی اسرائیل کے رہائشیوں کو دوبارہ اپنے گھروں میں واپس لانا ہے۔ جبکہ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیاں اسرائیلی دراندازی اور لبنان کے اندر جاری فضائی حملوں کے جواب میں کی جا رہی ہیں۔
ناکام سفارتی کوششیں
یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے ،جب امریکہ اور فرانس کی جانب سے اپریل میں طے پانے والی جنگ بندی کو دوبارہ فعال کرنے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم یہ معاہدہ بار بار خلاف ورزیوں اور باہمی فوجی کارروائیوں کی زد میں رہا ہے۔
فرانس نے حالیہ دنوں میں کہا ہے کہ وہ لبنان میں نازک جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے کوششیں کر رہا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی جنوبی لبنان میں موجودگی اور مسلسل کارروائیاں خطے کے استحکام کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔
دوسری جانب سفارتی ذرائع کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان بالواسطہ مذاکرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے اور توجہ اب بھی جنگ بندی کو مستحکم کرنے اور اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر عملدرآمد کے طریقہ کار کو مؤثر بنانے پر مرکوز ہے۔
تاہم زمینی صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ لڑائی اب صرف سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہی بلکہ جنوبی لبنان کے اندرونی حصوں تک پھیل چکی ہے، جس سے نہ صرف کشیدگی کے طویل ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے بلکہ کسی مستقل جنگ بندی تک پہنچنے کی کوششیں بھی مزید پیچیدہ ہو گئی ہیں۔