کارٹر، روڈریگیز اورمہاتیر کے بعد عبداللہ واد 100 سال کی عمر عبور کرنے والے پہلے افریقی صدر

سابق سینیگالی صدر نے اپنی زندگی ظلم کے خلاف لڑتے ہوئے اور جلاوطنی میں گزاری، اپنے ملک کی سیاسی زندگی پر گہرے نقوش چھوڑے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

سابق سینیگالی صدر عبداللہ واد نے گذشتہ مئی کے اواخر میں اپنی سویں سالگرہ منائی، جس کے بعد وہ 100 سال کی عمر عبور کرنے والے پہلے افریقی صدر بن گئے ہیں۔ انہوں نے صد سالہ صدور کے کلب میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ اس کلب میں صرف تین صدور شامل ہیں جن میں امریکی صدر جیمی کارٹر (100 سال)، ایکواڈور کے گیلرمو روڈریگیز (103 سال) اور ملائیشیا کے مہاتیر محمد (101 سال) شامل ہیں۔

گویا جغرافیائی تقسیم نے صدور کے 100 سال کی عمر تک پہنچنے میں خود کو لاگو کرنے کے لیے مداخلت کی ہے، چنانچہ لمبی عمر کو شمالی امریکہ، ایشیا اور جنوبی امریکہ کے براعظموں کے درمیان تقسیم کیا، پھر آخر کار افریقہ کی باری عبداللہ واد کے ذریعے آئی جنہوں نے اس درجہ بندی میں کم از کم اپنے یورپی ہم منصبوں کو پیچھے چھوڑ دیا اور ان سے پہلے 100 سالہ صدور کے کلب میں داخل ہو گئے۔

باوجود اس کے کہ یورپ معیار زندگی، طبی نگہداشت کی سطح اور دیگر معیارات کے لحاظ سے ممتاز خطہ ہے جو عام طور پر انسان کی عمر بڑھانے میں مدد کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہاں کی سیاسی زندگی کی پختگی اور ان پیچیدگیوں سے پاک ہونا ہے جن کا افریقی ممالک کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم یورپ اپنے کسی بھی صدر کو 100 سال کی عمر تک پہنچانے میں کامیاب نہ ہو سکا اور ملکہ الزبتھ دوم اس عمر تک پہنچنے کے بہت قریب تھیں کیونکہ ان کے اور اس عمر کے درمیان صرف 4 سال کا فاصلہ تھا۔

جمی اور رزان کارٹر - ایسوسی ایٹڈ پریس

واد.. چوتھائی صدی تک اپوزیشن میں رہے

عبداللہ واد نے اپنی زندگی ظلم کے خلاف لڑتے ہوئے اور جلاوطنی میں گزاری۔ وہ ایک طویل عرصے تک اپوزیشن کے رہنما رہے اور انہوں نے اپنی جدوجہد سے افریقہ میں جمہوریت کے حصول کے لیے مکالمے اور امن پر یقین رکھنے والے اپوزیشن رہنما کی ایک مثال قائم کی۔ اس طرح انہوں نے اپنے ملک کی سیاسی زندگی پر گہرے نقوش چھوڑے۔

حتیٰ کہ ان کے شدید ترین مخالفین نے بھی جنہوں نے رائے اور سیاسی نقطہ نظر میں ان سے اختلاف کیا، ان کی کارکردگی، ان کے مائینڈ سیٹ، ان کے سکون اور اپنے مخالفین کے ساتھ ہر اختلاف کے بعد انسانی اقدار کو برقرار رکھنے کے ان کے جذبے کی تعریف کو نہیں چھپایا۔

واد نے قانون کی تعلیم حاصل کی اور وکالت کے پیشے سے وابستہ رہے۔ جب انہوں نے سیاسی میدان میں قدم رکھا تو سینیگالی ڈیموکریٹک پارٹی کی بنیاد رکھی، عبداللہ واد نے اپوزیشن کی صفوں میں 25 سال گزارے جہاں وہ سوشلسٹوں کا مقابلہ کرتے رہے اور اقتدار کے ایوانوں پر ان کے کنٹرول پر تنقید کرتے رہے، جنہوں نے سنہ 1960ء میں فرانس سے آزادی کے بعد چالیس سال تک ملک پر حکومت کی تھی۔

واد نے سنہ 2000ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے سے پہلے چار صدارتی انتخابات میں حصہ لیا جہاں وہ اس وقت کے صدر عبدو ضیوف کو شکست دینے میں کامیاب رہے، جنہوں نے 19 سال تک سینیگال پر حکومت کی تھی۔ عبداللہ واد نے سنہ 2001ء میں آئینی ترامیم کی منظوری دی جس کے تحت صدر کو صرف ایک بار دوبارہ انتخاب کے لیے اہل قرار دیا گیا، چنانچہ وہ سنہ 2007ء میں آخری بار دوبارہ منتخب ہوئے۔

سابق سینیگالی صدر عبداللہ واد
سابق سینیگالی صدر عبداللہ واد

کیا کوئی صدر حکومت میں رہتے ہوئے 100 سال کی عمر کو پہنچ سکتا ہے؟

اپنے معاشروں میں اوسط عمر میں اضافے سے متاثر ہو کر 100 سالہ صدور کے کلب کے ارکان میں اضافے کے انتظار کے دوران افریقیوں کو یہ ڈر ہے کہ یہ معاملہ اقتدار کے شوقین ان کے صدور کو راغب نہ کرے اور وہ اقتدار سے اس وقت تک چمٹے رہیں جب تک کہ وہ حکومت میں رہتے ہوئے ہی 100 سال کی عمر عبور نہ کر جائیں۔

ملاوی کے سابق صدر ہیسٹنگز بانڈا اقتدار میں رہتے ہوئے 100 سال کی عمر عبور کرنے والے پہلے صدر کے طور پر یہ لقب حاصل کرنے کے بہت قریب تھے، لیکن وہ 95 سال کی عمر میں انتخابات ہار گئے اور 100 سال مکمل کرنے سے دو ماہ قبل ہی وفات پا گئے۔

ہیسٹنگز بانڈا جو سنہ 1898ء میں پیدا ہوئے اور 25 نومبر سنہ 1997ء کو تقریباً 100 سال کی عمر میں وفات پا گئے، ملاوی کے پہلے صدر تھے جنہوں نے سنہ 1964ء سے سنہ 1994ء تک حکومت کی، اور سنہ 1971ء میں ملاوی کانگریس پارٹی نے انہیں جمہوریہ ملاوی کا تاحیات صدر مقرر کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں