امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کو بند رکھنے پر اصرار کیا تو اس کی ناکہ بندی سختی سے برقرار رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن اس وقت ایران کے ساتھ جوہری فائل کے ان نکات پر مذاکرات کر رہا ہے جن پر تہران نے پہلے بات کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کے ساتھ برا معاہدہ کسی معاہدے کے نہ ہونے سے زیادہ بدتر ہے۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس وقت ایران کے ساتھ بہت سے نکات پر مذاکرات کے مرحلے میں ہیں اور ہم ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے جس کے پیچھے وہ چھپ سکے۔ ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی بار نمائندگان اور سینیٹ کے سامنے یکے بعد دیگرے ہونے والے دو سماعت کے سیشنز کے دوران منگل کو مارکو روبیو کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے کی جانے والی کمزور یا تعطل کا شکار سفارتی کوششوں کے بارے میں سوالات کی بوچھاڑ کا سامنا کرنا پڑا۔
وزير الخارجية الأميركي ماركو روبيو: الدولة التي لا تستطيع بناء السفن أو إنتاج الأدوية أو السيطرة على الهجرة أو الوصول إلى الموارد الحيوية لا تستطيع الدفاع عن شعبها pic.twitter.com/NdCNQnOrmc
— العربية (@AlArabiya) June 2, 2026
امریکی وزیر خارجہ نے اشارہ کیا کہ ایران نے ماضی میں جوہری پروگرام پر مذاکرات سے بارہا انکار کیا تھا لیکن اب وہ پیچھے ہٹ گیا ہے اور بات چیت کے لیے تیار ہو گیا ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے کسی قابل قبول نتیجے تک پہنچنے کی امید ظاہر کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ روایتی ایرانی ڈیٹرنس اب کافی حد تک کمزور ہو چکی ہے۔
ایرانی نظام میں دراڑیں اور پابندیوں کی شرط
مارکو روبیو نے مزید کہا کہ ایرانی حکومت اندرونی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور اس کی قیادت سے کسی بات کا جواب حاصل کرنے میں کئی دن لگ جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایرانیوں نے جوہری پروگرام کو ترک کرنے کے حوالے سے مذاکرات کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف پابندیوں میں کوئی بھی نرمی حقیقی جوہری وعدوں سے مشروط ہوگی۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ہم محض آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے ایران پر سے پابندیاں کم نہیں کریں گے۔
وزير الخارجية الأميركي ماركو روبيو: "نحن الدولة الأقوى والقوة العظمى الوحيدة على وجه الأرض.. اقتصادنا وجيشنا وعملتنا ولغتنا هم الأكثر هيبة وقوة ونسخر كل ذلك لحماية شعبنا.. ورغم كل هذا نحن لسنا مؤسسة خيرية" pic.twitter.com/5Z1cmZVed3
— العربية (@AlArabiya) June 2, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو اس لیے پابندیوں کا سامنا ہے کیونکہ وہ اعلیٰ سطح پر یورینیم کی افزودگی کر رہا ہے اور ہم پابندیوں میں کسی بھی قسم کی کمی سے پہلے ایران کی جانب سے اس کی جوہری فائل کے بارے میں حقیقی یقین دہانیاں اور وعدے چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ چین اور روس سمیت دنیا کا کوئی بھی ملک آبنائے ہرمز کی بندش جاری رکھنے کی حمایت نہیں کرتا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر ایران بحری جہازوں کو نشانہ بنانا بند کرنے پر راضی ہو جائے تو ہم ناکہ بندی ختم کر دیں گے کیونکہ امریکہ کی طرف سے کی گئی ناکہ بندی کی وجہ ایران کا آبنائے ہرمز کو مسلسل بند رکھنا ہی ہے۔
وزير الخارجية الأميركي أمام مجلس الشيوخ :
— العربية (@AlArabiya) June 2, 2026
🔴الردع الإيراني التقليدي تآكل بشكل كبير
🔴النظام الإيراني متصدع والحصول على رد من قيادته يتطلب أياما
🔴الإيرانيون وافقوا على التفاوض بشأن التخلي عن البرنامج النووي
🔴إيران رفضت كثيرا التفاوض على البرنامج النووي والآن
🔴نأمل في… pic.twitter.com/eLqFBjo2pM
کانگریس میں سماعت اور جنگ پر بحث
سابق ریپبلکن سینیٹر مارکو روبیو امریکی وزارت خارجہ کے سالانہ بجٹ کی درخواست پیش کرنے کے لیے کانگریس کے سامنے پیش ہوئے تھے لیکن جلد ہی پوری توجہ کا مرکز واشنگٹن اور تہران کے درمیان پہلے سے ہی کمزور جنگ بندی کا معاہدہ بن گیا، جسے گذشتہ دنوں دونوں اطراف سے ہونے والے حملوں کے تبادلے کے باعث مزید آزمائش کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
مارکو روبیو سمیت امریکی انتظامیہ کے متعدد ارکان نے مشرق وسطیٰ میں ختم نہ ہونے والی جنگوں سے بچنے کے گذشتہ وعدوں کے باوجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا۔ روبیو نے 28 فروری سنہ 2026ء کو ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی بار کانگریس کے سامنے کھلے عام گواہی دی، اگرچہ انہوں نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے پہلے حملوں کے چند دن بعد ارکان اسمبلی کے ایک خفیہ بریفنگ سیشن میں بھی شرکت کی تھی۔
اس بریفنگ کے دوران مارکو روبیو کو ڈیموکریٹس کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ انہوں نے فوجی کارروائی کے لیے کانگریس سے پہلے سے منظوری حاصل نہیں کی تھی، تاہم امریکہ کے اس دیرینہ دشمن کے خلاف کارروائی کے حامی زیادہ تر ریپبلکنز کی جانب سے ان کی بھرپور تائید کی گئی۔