برطانوی خاتون رکنِ پارلیمنٹ کا شوخ لباس میں تیار کردہ جعلی تصاویر پر"گروک" کے خلاف مقدمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایک برطانوی خاتون رکنِ اسمبلی نے تصدیق کی ہے کہ وہ امریکی ارب پتی تاجر ایلون مسک کی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی کمپنی "ایکس اے آئی" کے خلاف پرائیویسی کی خلاف ورزی کے الزام میں مقدمہ دائر کر رہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ چیٹ بوٹ "گروک" کے ذریعے ان کی جعلی تصاویر تیار کی گئی ہیں۔

برطانیہ کی حکمران لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والی رکنِ اسمبلی جيس آساتو نے بتایا کہ گذشتہ جنوری میں کسی شخص نے ان کی رضامندی کے بغیر "گروک" کا استعمال کرتے ہوئے لباسِ تیراکی (بکینی) میں ان کی جعلی تصاویر تیار کیں۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب انہوں نے انٹرنیٹ پر ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کردہ فحش مواد کے پھیلاؤ پر تنقید کی تھی۔

ذاتی معلومات کا غلط استعمال

یہ پیش رفت جيس آساتو کی جانب سے گذشتہ بدھ کو لندن کی ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔ انہوں نے اپنے دعوے میں ڈیٹا پروٹیکشن قانون کے تحت ذاتی معلومات کے غلط استعمال کو بنیاد بنایا ہے۔

انہوں نے ہرجانے کا مطالبہ بھی کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ ایک ایسی قانونی نظیر قائم کرنا چاہتی ہیں جو کمپنیوں کو ان کے مصنوعی ذہانت کے سسٹمز کے ڈیزائن کا ذمہ دار ٹھہرائے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دوسرے لوگ بھی اس مقدمے میں ان کا ساتھ دیں گے۔

واضح رہے کہ گذشتہ عرصے کے دوران گروک کی تصاویر نے بڑے پیمانے پر ہنگامہ کھڑا کیا تھا، جس کی وجہ "نامناسب" تصاویر تیار کرنے اور پرائیویسی کی خلاف ورزی کے الزامات تھے۔ دوسری طرف ایلون مسک کی کمپنی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ صارفین کی پرائیویسی کے تحفظ اور جعلی تصاویر، خاص طور پر عریانیت سے متعلق مواد کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں