چین امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جاسوسی کے لیے "لِنکڈ اِن" کا استعمال کر رہا ہے: رپورٹ

"فائیو آئیز" اتحاد نے خبردار کیا ہے کہ بیجنگ سکیورٹی اور دفاع کے شعبوں میں کام کرنے والوں کی جاسوسی کے لیے بھرتی کے پلیٹ فارموں کا غلط استعمال کر رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکہ اور اس کے انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کے اتحاد "فائیو آئیز" (Five Eyes) کے شراکت داروں نے بدھ کے روز ایک غیر معمولی مشترکہ انتباہ جاری کیا ہے۔ اس میں تصدیق کی گئی ہے کہ چین دنیا بھر کے سکیورٹی اور عسکری ماہرین سے خفیہ معلومات حاصل کرنے کے لیے "لِنکڈ ااِن" (LinkedIn) اور دیگر پیشہ ورانہ بھرتی کے پلیٹ فارموں کا استعمال کر رہا ہے۔

یہ انتباہ بیجنگ کی جانب سے مصنوعی ذہانت (AI) کی تکنیکوں اور جدید ڈیجیٹل ٹولز کے استعمال کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات کی عکاسی کرتا ہے، جن کے ذریعے جعلی پروفائلز اور فرضی ملازمت کی پیشکشیں تیار کی جاتی ہیں۔ ان کا ہدف انٹیلی جنس افسران اور وہ افراد ہیں جن کی رسائی درجہ بند (classified) یا حساس معلومات تک ہوتی ہے۔

امریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ" کی ایک رپورٹ کے مطابق انتباہ میں کہا گیا ہے کہ "چینی ملٹری انٹیلی جنس ایجنسیاں ... فائیو آئیز اتحاد کے رکن ممالک کے حکومتی اور عسکری ملازمین کو ہدف بنانے کے لیے پیشہ ورانہ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس اور آن لائن بھرتی کے پلیٹ فارمز کا وسیع پیمانے پر استعمال کر رہی ہیں۔"

یہ پہلا عوامی مشترکہ انتباہ ہے جو اس انٹیلی جنس اتحاد کے اراکین (جن میں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ شامل ہیں) کی جانب سے پیشہ ورانہ سوشل میڈیا اور بھرتی کے پلیٹ فارمز کے ذریعے بڑھتے ہوئے خطرات کے حوالے سے جاری کیا گیا ہے۔ اس سے قبل اتحاد نے چینی سائبر خطرات اور انٹیلیکچوئل پراپرٹی کی چوری کے بارے میں محدود مشترکہ بیانات جاری کیے تھے۔

انتباہ میں وضاحت کی گئی ہے کہ چینی انٹیلی جنس اہل کار "نجی مشاورتی کمپنیوں، تحقیقی مراکز یا ہیومن ریسورس کے اداروں کے ملازمین کا روپ دھارتے ہیں اور آن لائن ملازمت کے اشتہارات شائع کرتے ہیں" تاکہ ان افراد کو متوجہ کیا جا سکے جن کی رسائی مذکورہ 5 ممالک کے ریاستی رازوں تک ہوتی ہے۔

یہ انتباہ امریکی ایف بی آئی (FBI) ، برطانوی داخلی سکیورٹی ایجنسی (MI5) اور دیگر رکن ممالک کی متعلقہ ایجنسیوں کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔ ان میں سے کچھ ادارے گذشتہ برسوں کے دوران علیحدہ طور پر ایسے ہی انتباہات جاری کر چکے تھے۔

بیان میں نشان دہی کی گئی ہے کہ جو لوگ ان پیشکشوں کا جواب دیتے ہیں، انہیں بعد ازاں نا معلوم کلائنٹس کے لیے "عوامی سطح پر دستیاب نہ ہونے والی" معلومات فراہم کرنے کے لیے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ اکثر مالی مراعات کے عوض ہوتا ہے اور بعد ازاں یہ معلومات چینی سکیورٹی ایجنسیوں تک پہنچا دی جاتی ہیں۔

گذشتہ اکتوبر میں برطانوی داخلی سکیورٹی ایجنسی نے برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان کو خبردار کیا تھا کہ انہیں سوشل میڈیا، فشنگ میسیجز (phishing) اور ہیکنگ کی کوششوں کے ذریعے چین، روس اور ایران کی جانب سے جاسوسی کے خطرات کا سامنا ہے۔ اس کا مقصد ایسی معلومات حاصل کرنا ہے جنہیں قانون سازوں کو بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

جاسوسی کے الزامات بدستور مغربی ممالک اور بیجنگ کے درمیان کشیدگی کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ گذشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ٹیکنالوجی اور صنعتی کمپنیوں کے متعدد اعلیٰ ایگزیکٹوز کے ہمراہ چین کا دورہ کیا تھا، یہ وہ شعبے ہیں جنہیں سکیورٹی ایجنسیاں طویل عرصے سے چینی جاسوسی کی سرگرمیوں کا مسلسل ہدف مانتی آئی ہیں۔ ان خدشات کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ کے عہدے داروں بشمول وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے حالیہ عرصے میں اس بات پر زور دیا ہے کہ بیجنگ کے ساتھ تعلقات میں نمایاں بہتری آ رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں