سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے روسی ہم منصب سے ملاقات کی ہے۔ ان کی یہ ملاقات دورہ روس کے دوران جمعرات کے روز ہوئی۔ تاکہ عالمی سطح پر توانائی کے شعبے میں استحکام لانے کے لیے تبادلہ خیال کر سکیں۔
سعودی وزیر توانائی نے کہا 'دنیا کو اس وقت تیل کے ایک ایک قطرے کی ضرورت ہے اور ہم میں سے ہر کوئی چاہتا ہے کہ توانائی کے شعبے میں استحکام ہو کیونکہ توانائی کے بغیر ترقی کا سفر پائیداری حاصل نہیں کر سکتا۔'
وزیر توانائی اس وقت روس میں ہیں۔ جو سینٹ پیٹرز برگ میں انٹرنیشنل اکنامک فورم میں شرکت کے لیے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کی دنیا میں ہمیں بہت ساری چیزیں متحرک دکھتی ہیں لیکن ایسی بھی بہت ساری چیزیں ہوتی ہیں جو ہمارے لیے نامعلوم ہیں۔ ایسی بہت ساری چیزیں ہیں جنہیں ہم حقیقیت سمجھتے ہیں لیکن جب اگلی صبح اٹھتے ہیں تو وہ حقیقیت نہیں ہوتیں۔
ان کے روسی ہم منصب الیگزینڈر نوواک نے کہا کہ تیل کی ضروریات اس وقت غیر یقینی کا شکار ہیں لیکن 'اوپیک پلس' اس صورتحال سے نمٹنے کی اہلیت رکھتا ہے۔
ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کوئی نہیں جانتا کہ اگلے لمحے کی ضروریات کیا ہوں گی۔ کیونکہ غیر یقینی صورتحال میں ہر لمحہ اضافہ ہو رہا ہے۔ روسی نائب وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار سعودی وزیر توانائی سے ملاقات کے بعد کیا۔
'اوپیک پلس' گروپ میں 21 اقوام شامل ہیں جو پیٹرولیم مصنوعات کی برآمد سے متعلق ہیں۔ ان میں روس اور دیگر اتحادی بھی شامل ہیں۔
ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی لڑائی کے نتیجے میں خلیجی ممالک کا تیل سے متعلق انفراسٹرکچر اور ترسیل کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ اس کے متاثر ہونے کی ایک بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی دوہری ناکہ بندی بھی ہے۔ جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔
روسی نائب وزیر اعظم نے کہا کہ پچھلے چند برسوں میں جو تخمینے لگائے گئے تھے اب وقت آگیا ہے کہ ان میں بنیادی تبدیلیاں کریں تاکہ حالات کا مقابلہ کیا جا سکے۔
'اوپیک' کے سیکرٹری جرنل ھیثم الغایس بھی سینٹ پیٹرز برگ میں انٹرنیشنل اکنامک کانفرنس میں شرکت کے لیے موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تیل کی ضروریات میں غیر معمولی تبدیلیاں ہیں لیکن ہم اپنے پہلے سے کیے گئے تخمینے میں تبدیلی نہیں کر رہے کیونکہ تیل کی ضروریات اور مطالبات آئے روز بدل رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا ہمیں تیل کی ضروریات پوری کرنے کی تیاری کے سلسلے میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔ جیسا کہ ہم مستقبل میں دیکھ رہے ہیں۔