حالیہ زمینی کشیدگی اور امریکہ و ایران کے درمیان جوابی حملوں کے تناظر میں، ایرانی رہبر اعلیٰ کے سابق مشیر برائے بین الاقوامی امور علی اکبر ولایتی نے خطے کے ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ ''مفاہمتی دھوکے'' پر اپنی امیدیں نہ لگائیں۔
انہوں نے آج ہفتے کے روز ایکس (ٹوئٹر) پر لکھا کہ مغربی پالیسی سازوں کے درمیان ایران کے ایک مرکزی طاقت کے طور پر ابھرنے سے متعلق تاریخی خدشات اب حقیقت کا روپ اختیار کر چکے ہیں اور ایک نیا توازنِ طاقت قائم ہو چکا ہے۔
ولایتی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے وقتی معاہدے کی خواہش اس بات کی علامت ہے کہ ''ایرانی خطرے کے نظریے'' کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور مزاحمتی قوتیں غالب آ رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ طاقت کے نئے توازن کی بنیاد مزاحمت کو کمزور کرنے پر نہیں رکھی جا سکتی اور پائیدار امن مفروضوں یا غیر حقیقی سفارتی وعدوں سے نہیں بلکہ حقیقی طاقت کے توازن سے جنم لیتا ہے۔
حملوں میں اضافہ
یہ بیانات اس وقت سامنے آئے، جب ایران کی جانب سے کویت اور بحرین پر حملوں میں دوبارہ شدت دیکھی گئی، جنہیں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کے دعووں سے جوڑا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب گزشتہ دنوں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں محتاط پیش رفت کے اشارے بھی سامنے آ رہے تھے۔
صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی ،جب امریکی فوج نے گزشتہ روز جنوبی ایران میں ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔
یہ کارروائی اس کے بعد کی گئی ،جب امریکہ نے چار ایرانی ڈرونز کو مار گرایا اور دعویٰ کیا کہ یہ ڈرونز آبنائے ہرمز میں شہری بحری آمدورفت کے لیے خطرہ تھے۔
اس کے بعد کویت اور بحرین میں خطرے کے سائرن بجا دیے گئے اور دونوں ممالک میں دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ اس نے ''خطے میں دشمن کے اڈوں'' کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے، اسے سیرِک اور قشم کے جزائر پر امریکی حملے کا جواب قرار دیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا کہ ایران نے کویت اور بحرین کی طرف سات بیلسٹک میزائل فائر کیے، جن میں سے چھ کو دفاعی نظام نے راستے میں ہی تباہ کر دیا جبکہ ساتواں اپنے ہدف تک نہیں پہنچ سکا۔
امریکی بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ فی الحال کسی امریکی اہلکار کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے اور بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر کو نقصان پہنچنے کے ایرانی دعوے غلط ہیں۔
ادھر امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے اور تہران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔
اسی دوران پاکستان بھی دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور ابتدائی معاہدے تک پہنچنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
تاہم باخبر ذرائع کے مطابق اصل رکاوٹ جوہری معاملے کے علاوہ بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں سے متعلق ادائیگی کا طریقہ کار ہے۔