جنوب مغربی سعودی عرب میں واقع الباحہ نے ملک کی پہلی " کافی سٹی' 'کے منصوبے کی تفصیلات جاری کر دی ہیں، جو مجموعی طور پر 16 لاکھ 62 ہزار مربع میٹر کے رقبے پر پھیلا ہوگا۔
اس منصوبے کا مقصد سعودی کافی کی ویلیو چین کو مضبوط بنانا، اس کی پیداوار میں اضافہ کرنا اور اس کی مسابقتی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کافی سٹی کے سی ای او محمد حوتہ نے بتایا کہ اس شہر میں اب تک 5 لاکھ 27 ہزار سے زائد کافی کے پودے لگائے جا چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد یہاں سے سالانہ تقریباً 2000 ٹن سعودی کافی کی پیداوار کا ہدف رکھا گیا ہے، جس سے مقامی معیشت کو فروغ ملے گا اور سعودی کافی کے اقتصادی اثرات میں اضافہ ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں اس منصوبے کے تحت کافی کے مزید لاکھوں پودے لگائے جائیں گے، جس سے نہ صرف مقامی طلب پوری ہوگی بلکہ برآمدات کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
ٹیکنالوجی اور تحقیق کا مرکز
محمد حوتہ سعودی کافی سٹی کے سی ای او کے مطابق یہ منصوبہ محض زرعی منصوبہ نہیں بلکہ ایک ٹیکنالوجی اور ریسرچ پلیٹ فارم بھی ہے جو کافی کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرے گا۔
اس شہر میں کافی کے پودے خود تیار کیے جا رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے خصوصی نرسریز قائم کی گئی ہیں جو مقامی ماحول کے مطابق اعلیٰ معیار کے پودے فراہم کرتی ہیں، تاکہ کسی بیرونی ذرائع پر انحصار نہ رہے۔
انہوں نے بتایا کہ شہر کے اندر ایک مکمل زرعی تحقیق و ترقی کا مرکز بھی قائم کیا گیا ہے، جہاں الباحہ کے ماحول کے مطابق بہترین زرعی طریقوں کا مطالعہ کیا جا رہا ہے۔
اس میں جدید آبپاشی کے نظام، کھاد کے بہتر استعمال، موسمی اثرات کا تجزیہ، اور فصلوں کو بیماریوں و کیڑوں سے بچانے کے جدید حل شامل ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ کسانوں کو جدید زرعی معلومات منتقل کرنے اور جدت کو فروغ دینے پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔پائیداری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ شہر میں ''پریسیژن ایگریکلچر'' یعنی جدید اور ڈیٹا پر مبنی کاشتکاری کا نظام اپنایا گیا ہے، جس میں ڈرِپ اریگیشن، آٹومیشن اور اسمارٹ کنٹرول سسٹمز شامل ہیں۔
یہ نظام مٹی کی نمی اور موسمی حالات کے ڈیٹا کی بنیاد پر پودوں کی پانی کی ضرورت کا تعین کرتا ہے، جس سے پانی کا ضیاع کم اور وسائل کا مؤثر استعمال ممکن ہوتا ہے۔
مقامی طلب کو پورا کرنا
اسی حوالے سے حوتہ نے وضاحت کی کہ یہ شہر اس وقت بھی زرعی ترقی کے مراحل میں ہے اور فی الحال یہاں سے کوئی برآمدات نہیں کی جا رہیں۔
انہوں نے کہا: ہماری توجہ سب سے پہلے بڑھتی ہوئی مقامی طلب کو پورا کرنے پر ہے، اس کے بعد ہم خلیجی اور عالمی منڈیوں تک توسیع کریں گے، تاکہ سعودی کافی کو ایک اعلیٰ معیار کی مصنوعات کے طور پر عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بنایا جا سکے۔
کافی کے شعبے میں روزگار کے مواقع
اس کے مقابلے میں سعودی کافی سٹی کے سی ای او کے مطابق یہ منصوبہ تقریباً 100 براہِ راست روزگار کے مواقع فراہم کرتا ہے، جن میں کسان، تکنیکی ماہرین اور نگران عملہ شامل ہیں۔
اس کے علاوہ اس منصوبے کے ذریعے بالواسطہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے، جن کا تعلق لاجسٹکس، آپریشنز اور مارکیٹنگ جیسے شعبوں سے ہوگا۔
انہوں نے توقع ظاہر کی کہ جیسے جیسے کافی سٹی کے منصوبے میں توسیع ہوتی جائے گی، ویسے ویسے روزگار کے مواقع میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا۔
450 کافی کے فارم
یہ کافی سٹی الباحہ کے مرکز معشوقہ میں پہلی زرعی شہر کے طور پر قائم کی جا رہی ہے، جو سعودی عرب میں اعلیٰ معیار کی کافی کی کاشت کے لیے مشہور علاقہ ہے۔
اس خطے میں مجموعی طور پر 450 سے زائد کافی کے فارم موجود ہیں، جن میں تقریباً 1 لاکھ 15 ہزار سے زیادہ کافی کے درخت شامل ہیں جو اعلیٰ معیار کی پیداوار دیتے ہیں۔
الباحہ میں کافی کے یہ کھیت پہاڑی سلسلے شدا الاعلیٰ اور شدا الاسفل کے درمیان واقع ہیں، جہاں زمین کی زرخیزی اور پانی کی وافر دستیابی اسے کافی کی کاشت کے لیے نہایت موزوں بناتی ہے۔ یہ علاقہ پہاڑی سلسلوں، وادیوں اور نشیبی میدانوں کے امتزاج کی وجہ سے کافی کی پیداوار اور اس کی بہتری کے لیے ایک مثالی ماحول فراہم کرتا ہے۔
الباحہ کی کافی میں طلب میں اضافہ
سعودی عرب میں کافی کے شعبے کی تفصیلات کے مطابق ماہر محمد حوتہ نے بتایا ہے کہ الباحہ سے پیدا ہونے والی کافی کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
ان کے مطابق یہ طلب اب کسی ایک علاقے یا شہر تک محدود نہیں رہی بلکہ سعودی عرب کے مختلف حصوں تک پھیل چکی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت الباحہ خطہ سالانہ 36 ٹن سے زائد خالص کافی پیدا کر رہا ہے، جسے زیادہ تر ملک کے اندر ہی بڑھتی ہوئی مقامی طلب کے تحت فروخت کیا جا رہا ہے۔
محمد حوتہ کے مطابق کافی انڈسٹری میں توسیعی منصوبے جاری ہیں اور کافی سٹی آئندہ برسوں میں پیداوار کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرے گی، جس سے اس شعبے کی مجموعی پیداوار مزید بہتر ہو گی۔
چار بڑے چیلنجز
سعودی عرب کافی انڈسٹری کو فروغ دے کر مقامی کافی کو عالمی معیار تک لے جانے کا ہدف رکھتا ہے، تاہم اس شعبے کو کچھ اہم چیلنجز کا سامنا بھی ہے۔
انجینئر محمد حوتہ کے مطابق ان چیلنجز کو چار بنیادی عوامل میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے: پانی کے وسائل کا مؤثر انتظام، معیاری اور یکساں پیداوار رکھنے والے پودوں کی فراہمی، جدید زرعی ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی ماہر افرادی قوت کی تربیت۔
دوسری جانب سعودی عرب دنیا کے ان دس ممالک میں شامل ہے، جہاں کافی کا سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے، اور سالانہ 80 ہزار ٹن سے زائد کافی استعمال کی جاتی ہے۔
سعودی مارکیٹ میں ہر سال 70 سے 90 ہزار ٹن کافی درآمد کی جاتی ہے، جبکہ شہریوں کی جانب سے کافی پر سالانہ ایک ارب ریال سے زائد خرچ کیا جاتا ہے۔
وزارتِ ماحولیات، پانی و زراعت کے مطابق سعودی کافی کو معیار کے لحاظ سے دنیا کی بہترین کافیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔