جنگ عظیم کا سب سے بڑا بحری سانحہ جو ہزاروں ہلاکتوں کا موجب بنا
پہلی جنگ عظیم کے دوران اٹلی نے 23 مئی 1915ء کو آسٹریا-ہنگری سلطنت کے خلاف باضابطہ طور پر جنگ کا اعلان کرکے اس عالمی تنازعے میں شمولیت اختیار کی۔
اطالویوں کے لیے لڑائیاں بنیادی طور پر الپس کے پہاڑی علاقوں اور ایسونزو (Isonzo) محاذ پر مرکوز تھیں۔ ان لڑائیوں میں اطالوی افواج کو شدید جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ان کے فوجی سخت سردی، خوراک و سازوسامان کی قلت اور بیماریوں کے پھیلنے جیسے مسائل سے بھی نبردآزما تھے۔
دوسری جانب، بحیرہ ایڈریاٹک میں بھی اطالویوں اور آسٹرین کے درمیان بحری جھڑپیں ہوئیں۔ 7 جون 1916 کو، اطالویوں کو اس وقت ایک کاری ضرب لگی جب ایس ایس پرنسپی امبرتو بحری جہاز ڈوب گیا۔
اطالوی، جرمن اور آسٹرین اتحاد
سنہ 1882ء میں اٹلی نے جرمنی اور آسٹریا کے ساتھ فوجی اتحاد قبول کر لیا تھا، جس کے بعد دنیا نے "تثلیثی اتحاد" (Triple Alliance) کا ظہور دیکھا۔ اس دور میں اٹلی نے فرانسیسی خطرات کا سامنا کرنے کے لیے اچھے اتحادیوں کے حصول کی امید میں اس اتحاد میں شمولیت اختیار کی۔
اس کے علاوہ اٹلی نے کئی مواقع پر براعظم افریقہ کی نوآبادیاتی طاقتوں کے درمیان تقسیم خاص طور پر تیونس پر فرانس کے قبضے پر اپنے غصے کا اظہار کیا، جس کا مطالبہ اطالوی تاریخی وجوہات کی بنا پر کرتے تھے۔
پہلی جنگ عظیم کے آغاز کے ساتھ ہی، اٹلی نے شروع میں مداخلت سے انکار کیا، لیکن 1915 میں اپنا موقف تبدیل کر لیا۔ نئی سرزمین اور نوآبادیات حاصل کرنے کے وعدوں کے بعد، اٹلی "تثلیثی وفاق" (Triple Entente) میں شامل ہوگیا، جس میں روس، برطانیہ اور فرانس شامل تھے۔
فوجی جہاز میں تبدیلی
اٹلی نے 1908 میں پالرمو کے شپ یارڈز میں تجارتی جہاز "پرنسپی امبرتو" کی تعمیر شروع کی تھی۔ پہلی جنگ عظیم کے آغاز سے قبل، یہ جہاز "نیویگازیون جنرال اطالیانا" (Navigazione Generale Italiana) کمپنی کے لیے نقل و حمل کے شعبے میں کام کرتا تھا۔
ڈیزائن کے مطابق، پرنسپی امبرتو کی لمبائی 145 میٹر سے زیادہ تھی، جبکہ اس کی چوڑائی تقریباً 16.3 میٹر تھی۔ اس جہاز کا وزن 7838 ٹن تھا اور اسے ایسے انجنوں سے لیس کیا گیا تھا جو اسے 16 ناٹ (knots) کی زیادہ سے زیادہ رفتار تک پہنچنے کی سہولت دیتے تھے۔
برطانیہ، فرانس اور روس کے ساتھ جنگ میں شامل ہونے پر، اطالوی حکام نے پرنسپی امبرتو کو ضبط کر لیا اور اسے فوجیوں اور عسکری سازوسامان کی نقل و حمل کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔
جہاز کا غرق ہونا
آٹھ جون 1916ء کو پرنسپی امبرتو بحیرہ ایڈریاٹک میں موجود تھا۔ اسے "راوینا" (Ravenna) جہاز کے ساتھ مل کر البانیہ سے اطالوی 55 ویں انفنٹری کور کو اٹلی منتقل کرنے کا مشن سونپا گیا تھا۔ کسی ممکنہ حملے سے تحفظ کے لیے، اطالوی کروزر "لیبیا" (Libia) اور 4 ڈسٹرائر جہاز اس کی حفاظت پر مامور تھے۔
اچانک، آسٹرین آبدوز "یو-5" (U-5) سمندر کی سطح پر نمودار ہوئی اور ایک ٹارپیڈو داغا جس نے پرنسپی امبرتو کو براہ راست نشانہ بنایا۔
تھوڑی ہی دیر میں پرنسپی امبرتو بحیرہ ایڈریاٹک کی تہہ میں جا گرا۔ ریسکیو آپریشن میں تاخیر اور بڑی تعداد میں فوجیوں کو تیراکی نہ آنے کی وجہ سے یہ سانحہ 1926ء اطالوی فوجیوں کی موت کا سبب بنا، جسے اس وقت پہلی جنگ عظیم کا سب سے بڑا بحری سانحہ قرار دیا گیا تھا۔
-
لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی امن کے قیام کا ایک موقع ہے: یورپی یونین
یورپی یونین نے ہفتے کے روز زور دیا ہے کہ امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والا لبنان ...
مشرق وسطی -
ایران کا مجتبیٰ خامنہ ای کے جنگ میں زخمی ہونے کا پہلا باضابطہ اعتراف
ایران کی مجلس خبرگانِ رہبری کے رکن احمد خاتمی نے ہفتے کے روز انکشاف کیا ہے کہ جنگ ...
مشرق وسطی -
ایران میں جنگ 100ویں روز میں داخل ، مذاکرات میں پیش رفت کے کوئی آثار نہیں
پاکستان کی سیاسی نقل و حرکت جس کی آخری کڑی مرشد کو اہم پیغام پہنچانا ہے
مشرق وسطی