مشرق وسطیٰ

امدادی فلوٹیلا حملہ کیس، اٹلی کا اسرائیلی وزیر ایتمار بن گویر کے خلاف تحقیقات کا آغاز

غزہ امدادی فلوٹیلا کے کارکنوں سے بدسلوکی کا معاملہ، پیرس پہلے ہی بن گویر پر داخلے کی پابندی عائد کر چکا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اطالوی حکام نے اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر کے خلاف مئی کے وسط میں غزہ جانے والے امدادی فلوٹیلا کے کارکنوں سے ناروا سلوک کے حوالے سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

روم میں استغاثہ کے نمائندوں نے پیر کی شب دیر گئے اعلان کیا کہ ایتمار بن گویر کے خلاف تحقیقات کا مرکز غزہ امدادی فلوٹیلا میں شامل کارکنوں کو حراست میں لینے اور ان پر مبینہ تشدد کے الزامات ہیں۔ اسرائیلی حکام سے بھی اس تحقیقات میں تعاون کی درخواست کی گئی ہے۔

مئی کے وسط میں اسرائیل نے قبرص کے قریب بین الاقوامی سمندری حدود میں 50 سے زائد کشتیوں پر مشتمل ایک فلوٹیلا کو روکا تھا جو غزہ کی پٹی کی جانب گامزن تھا۔

اس قافلے میں اطالوی شہریوں سمیت 400 سے زائد کارکن شامل تھے جو غزہ پر عائد سمندری محاصرے کو توڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔

اسرائیلی وزارت خارجہ نے اس مشن کو ایک "پروپیگنڈا شو" قرار دیا جو حماس کے مفادات کی تکمیل کرتا ہے۔

ایتمار بن گویر کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری کردہ ایک ویڈیو کلپ نے جس میں غزہ کے کارکنوں کو تذلیل آمیز انداز میں حراست میں دکھایا گیا تھا بین الاقوامی سطح پر غم و غصے کی لہر دوڑا دی تھی۔

اٹلی میں تحقیقات کی خبر پر ردعمل دیتے ہوئے ایتمار بن گویر نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ "جوتے کی سرزمین اب چپل کی سرزمین بن گئی ہے"۔

دوسری جانب فرانس میں انسداد دہشت گردی کے پراسیکیوٹر نے بھی کارکنوں کے ساتھ اسرائیل کے متنازعہ سلوک پر تشدد اور جنگی جرائم کے شبہات کی بنیاد پر تحقیقات کھول دی ہیں۔ تاہم اسرائیل جسمانی اور جنسی تشدد کے ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

یاد رہے کہ پیرس پہلے ہی ایتمار بن گویر کے داخلے پر پابندی عائد کر چکا ہے۔ علاوہ ازیں اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سار اور وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو بھی ایتمار بن گویر کے اقدامات کی مذمت کر چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں