اسرائیل کے ساتھ ان جھڑپوں کے بعد جن سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوششیں تقریباً ناکام ہونے کے قریب تھیں ایران نے اپنے خلاف کسی بھی جارحیت کے اعادہ پر انتباہ جاری کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ وہ مکمل طور پر تیار ہے۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کی بری فوج کے کمانڈر علی جہانشاہی نے اپنے بیان میں کہا کہ ہماری انگلیاں ٹرگر پر ہیں اور ہم کسی بھی قسم کے ممکنہ خطرات کا فیصلہ کن جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
اعلیٰ ترین سطح پر الرٹ
انہوں نے مزید کہا کہ بری افواج انتہائی ہائی الرٹ اور مکمل آپریشنل تیاری کی حالت میں ہیں اور ہر خطرے کا مقابلہ کرنے اور آخری دم تک ملک کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہیں۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے وضاحت کی تھی کہ عوام کے حقوق کے حصول کے لیے سفارت کاری اور دفاعی صلاحیتوں کے استعمال دونوں راستوں کو کام میں لایا جائے گا۔
یہ دھمکی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ تہران کے ساتھ معاہدہ اپنے حتمی مراحل میں ہے۔ نیویارک کے جان ایف کینیڈی ہوائی اڈے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے چند دنوں میں ایران کے ساتھ معاہدے کے حوالے سے کوئی خیال آ سکتا ہے۔ انہوں نے اس رائے کا اظہار کیا کہ ایرانی بندرگاہوں پر اقتصادی محاصرہ فوجی آپشن سے بہتر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تہران کے ساتھ سابقہ جوہری معاہدہ ان کے الفاظ میں ایک مکمل ناکامی تھا۔
واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان تصادم کا تازہ ترین دور اتوار کی شام شروع ہوا تھا جب ایران نے بیروت کے جنوبی مضافات میں اسرائیلی فضائی حملے کے جواب میں اسرائیل کی طرف میزائل داغے تھے۔ بیروت کا یہ علاقہ پہلے تہران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کا گڑھ سمجھا جاتا تھا.
اسرائیلی افواج نے ایرانی سرزمین کے اندر کئی فوجی مقامات کو نشانہ بنا کر جواب دیا جس کے بعد ٹرمپ نے مداخلت کی اور دونوں فریقین پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر فائر بندی کریں جس پر عملی طور پر عمل درآمد ہو گیا۔
بعد ازاں ایران اور اسرائیل دونوں نے باہمی حملے روکنے کا اعلان کیا تاہم دھمکی دی کہ کسی بھی "غلطی" کی صورت میں دوبارہ کارروائی شروع کر دی جائے گی۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے کل شام ایک ٹیلی ویژن خطاب میں دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر تہران نے دوبارہ حملے شروع کرنے کی غلطی کی تو ہم پوری قوت سے جواب دیں گے۔
اس کے جواب میں اسرائیلی وزیر دفاع نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ایران کی دھمکیوں کو سختی سے مسترد کرتے ہیں اور لبنان اور ایران کو جوڑنے اور اسرائیل پر حملہ کرنے کی ہر ایرانی کوشش کا سخت جواب دیا جائے گا۔