سعودی عرب اور ترکیہ نے ریلوے نیٹ ورک کو آپس میں جوڑنے کے لیے ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کریں گے۔
سعودی وزیر برائے ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک سروسز صالح الجاسر نے اس سے قبل العربیہ کو دیے گئے انٹرویو میں توقع ظاہر کی تھی کہ اردن اور شام سے گزرتے ہوئے ترکیہ کے ساتھ ریل رابطے کے مطالعے کا عمل رواں برس کے اختتام سے قبل مکمل کر لیا جائے گا۔
صالح الجاسر نے کہا کہ یہ منصوبہ علاقائی انضمام کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ تجارت کی نقل و حرکت میں معاون ثابت ہوگا اور خطے کے ممالک کے درمیان پائیدار زمینی نقل و حمل کے نظام کو ترقی دے گا۔
سعودی وزیر نے مزید کہا کہ مملکت کا قومی ریلوے نیٹ ورک فی الحال الحدیثہ کراسنگ کے ذریعے اردن کی سرحدوں تک پھیلا ہوا ہے جو اسے مستقبل میں علاقائی اور بین الاقوامی رابطوں کے لیے ایک تزویراتی مرکز بناتا ہے۔
گذشتہ مارچ کے مہینے میں سعودی وزیر برائے ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک سروسز انجینئر صالح الجاسر نے جدہ اسلامک پورٹ پر لاجسٹک کوریڈور انیشی ایٹیو کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔ اس اقدام کا مقصد سپلائی چین کی لچک کو بڑھانا اور بحیرہ احمر اور خلیج عرب میں تجارت کے بہاؤ کو یقینی بنانا ہے جو خطے کے بحری نقل و حمل کے شعبے میں ہونے والی تبدیلیوں کے پیش نظر انتہائی اہم ہے۔
بحری شپنگ کو درپیش چیلنجز، خاص طور پر آبنائے ہرمز کی بندش اور عالمی سپلائی چین میں پیدا ہونے والے تعطل کے بعد علاقائی ریلوے نیٹ ورک کے منصوبے دوبارہ اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔
سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان اردن اور شام کے راستے ریل رابطے کا منصوبہ ان اہم اقدامات میں سے ایک ہے جس کا مقصد متبادل زمینی راستے قائم کرنا ہے تاکہ ایشیا اور یورپ کے درمیان نقل و حمل اور تجارت کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔