ٹرمپ نے اپنے وکیل کو اٹارنی جنرل کے عہدے کے لیے نامزد کر دیا، سینیٹ میں مخالفت کا امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اپنے سابق ذاتی وکیل ٹوڈ بلانچ کو مستقل بنیادوں پر امریکی اٹارنی جنرل کے عہدے کے لیے نامزد کر دیا، جس کے بعد سینیٹ میں اس نامزدگی کی توثیق کے لیے سخت سیاسی معرکے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

ٹوڈ بلانش اپریل میں پام بونڈی کے عہدہ چھوڑنے کے بعد سے یہ منصب عارضی طور پر سنبھالے ہوئے ہیں۔

عہدہ سنبھالنے کے بعد بلانچ نے ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹر جیمز کومی پر، جو صدر ٹرمپ کے نمایاں ناقدین میں شمار ہوتے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کی جان کو خطرے میں ڈالنے کے الزامات عائد کیے تھے۔

 ٹوڈ بلانچ
ٹوڈ بلانچ

انہوں نے تقریباً ایک اعشاریہ 8 ارب ڈالر مالیت کا ایک فنڈ قائم کرنے کی بھی کوشش کی تھی، جس کا مقصد ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں ٹرمپ کے حامیوں کے خلاف عدالتی نظام کے مبینہ غلط استعمال کا ازالہ کرنا تھا۔

تاہم کانگریس کے دباؤ پر انہیں یہ منصوبہ واپس لینا پڑا۔ڈیموکریٹک ارکان نے اس فنڈ کو ''بلیک فنڈ'' قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ اس کا مقصد صدر ٹرمپ کے حامیوں کو نوازنا تھا، جن میں 6 جنوری 2021 کو کیپیٹل ہل پر حملے کے الزام میں سزا پانے والے بعض افراد بھی شامل تھے۔

اسی لیے توقع کی جا رہی ہے کہ سینیٹ میں اپوزیشن ارکان کانگریس کے ایوانِ بالا میں ہونے والی سماعت کے دوران ٹوڈ بلانچ سے سخت سوالات کریں گے اور ان کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔

چ کی نامزدگی کی توثیق آسان دکھائی نہیں دیتی، کیونکہ اس انتخاب کو تمام ریپبلکن سینیٹرز کی متفقہ حمایت بھی حاصل نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں