مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے پانچ اہم مراحل جن کے بعد پاکستان مذاکرات کا مرکز بنا
40 روز پر محیط یہ جنگ عالمی توانائی کی منڈیوں میں بڑے پیمانے پر اضطراب اور ہلچل کا باعث بنی
پاکستانی دار الحکومت اسلام آباد کل ہفتے کے روز امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح کے مذاکرات کی میزبانی کرے گا۔ یہ مذاکرات پاکستان کی ان کوششوں کا حصہ ہیں جن کا مقصد ایک عارضی جنگ بندی کو مستقل معاہدے میں تبدیل کرنا ہے، تاکہ اس جنگ کا خاتمہ کیا جا سکے جس نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں شدید اضطراب پیدا کر رکھا ہے۔
جنگ بندی سے قبل
یہ تنازع 28 فروری کو اس وقت شروع ہوا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مربوط حملے کیے، جن میں فوجی اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے، جبکہ ہفتوں جاری رہنے والی لڑائی میں تقریباً 2000 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
جواب میں تہران نے اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک کی جانب میزائل اور ڈرون داغے اور آبنائے ہرمز کو بند کر دیا۔ اس کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا اور عالمی تجارت معطل ہو گئی۔ 38 روز تک فوجی کارروائیاں جاری رہنے کے بعد، 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں دو ہفتوں کی جنگ بندی کا معاہدہ ہوا، جو 22 اپریل تک برقرار رہنا ہے۔
غیر متوقع ثالث
ثالث کے طور پر پاکستان کی طاقت اس کے وسیع تعلقات کے نیٹ ورک پر مبنی ہے، کیونکہ اس کے ایران کے ساتھ دیرینہ تاریخی مراسم ہیں اور ساتھ ہی امریکہ، سعودی عرب اور چین کے ساتھ بھی مضبوط تعلقات ہیں۔ اس عمل میں بیجنگ نے بھی معاون کردار ادا کیا ہے۔
پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے چینی ہم منصب وانگ ای کے ساتھ مشاورت کی، جنہوں نے اس اقدام کی حمایت کی۔ مذاکرات سے با خبر ایک اعلیٰ پاکستانی عہدے دار کے مطابق، چین کی مداخلت تہران کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے میں فیصلہ کن ثابت ہوئی، کیونکہ جس رات جنگ بندی کا اعلان ہونا تھا، تمام امیدیں دم توڑ رہی تھیں لیکن بیجنگ نے مداخلت کر کے تہران کو راضی کر لیا۔
مذاکراتی ایجنڈا
فریقین کے درمیان اختلافات اب بھی گہرے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے پیش کردہ 15 نکاتی تجویز میں جوہری افزودگی کے پروگرام میں کمی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر توجہ دی گئی ہے۔ اس کے برعکس، ایران آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور جہازوں پر فیس عائد کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے، ساتھ ہی وہ فوجی کارروائیوں کے خاتمے اور پابندیاں اٹھانے کا خواہاں ہے۔ اس کے علاوہ لبنانی معاملہ بھی اختلاف کا ایک اہم نکتہ ہے، کیونکہ اسرائیل نے لبنان کو جنگ بندی میں شامل کرنے سے انکار کر دیا ہے، جبکہ تہران اپنی شرکت کو وہاں کشیدگی کے خاتمے سے مشروط کرتا ہے۔
مذاکرات کار
امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جن کے ہمراہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہیں۔ یہ 2015 کے جوہری معاہدے کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطے کی بلند ترین سطح ہے۔
دوسری جانب ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں۔ قالیباف کی قیادت کو غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے کیونکہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے حوالے سے سخت گیر موقف کے لیے مشہور ہیں۔
اسلام آباد کی بندش
مذاکرات کے پیش نظر اسلام آباد میں انتہائی سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ وزارت خارجہ کے قریب واقع ایک ہوٹل کو خالی کرا لیا گیا ہے اور شہر میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ سڑکوں پر مسلح سکیورٹی اہل کار تعینات ہیں اور مختلف مقامات پر ناکہ بندی کی گئی ہے۔
حکومت نے ان ملاقاتوں کی تفصیلات اور مقام کے حوالے سے مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ تاہم توقع ہے کہ یہ مذاکرات عمان کی ثالثی میں ہونے والے سابقہ ادوار کی طرح بالواسطہ ہوں گے، جہاں دونوں وفود الگ الگ کمروں میں بیٹھیں گے اور پاکستانی حکام تجاویز کی منتقلی کے لیے ان کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنیں گے۔