ایک علاقائی ذریعے نے بدھ کو انکشاف کیا ہے کہ قطر نے تہران اور امریکہ کے درمیان تصفیہ طلب معاملات پر براہ راست مذاکرات کے لیے ایک سہ فریقی ملاقات کا انتظام کرنے کی کوشش کی، لیکن ایرانی فریق نے اس سے انکار کر دیا۔
امریکی ویب سائٹ axios کے مطابق ذریعے نے مزید بتایا کہ امریکی اور ایرانی حکام نے گذشتہ دو دنوں کے دوران دوحہ میں قطری ثالثوں کے ساتھ متوازی مذاکرات کیے۔
امریکی چینل "فوکس نیوز" کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی جب ایک اعلیٰ امریکی انتظامی عہدے دار نے بتایا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات بدھ کے روز بھی جاری رہے، حالانکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران پر نئے حملے کرنے کی دھمکی دی تھی۔
عہدے دار نے اپنا نام ظاہر نہ کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات بدستور جاری ہیں اور امریکہ تہران کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنا جاری رکھے گا۔
ایک با خبر عہدے دار نے اس سے قبل بدھ کو انکشاف کیا کہ ایران کے جنوب میں کئی مقامات پر امریکی حملوں اور ایرانی رد عمل کے بعد... قطری مذاکرات کار بدھ کی صبح تہران پہنچے تاکہ حتمی معاہدہ طے کرنے اور خلا کو پُر کرنے کی کوشش کی جا سکے۔
روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ دورہ امریکہ کے ساتھ مشاورت کے بعد انجام پایا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو ایران کو نئے اور شدید حملوں کی دھمکی دی۔ انھوں نے تہران پر الزام لگایا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں جنگ ختم کرنے کے لیے جاری مذاکرات میں ہماری عقلوں کو ہلکا سمجھ رہا ہے۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ امریکہ آج دوبارہ زوردار حملے کرے گا، جیسا کہ گذشتہ روز کیے تھے۔
امریکی صدر نے وضاحت کی کہ ان کا ملک ایک حقیقی اور مؤثر معاہدہ چاہتا ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران جوہری ہتھیار نہ رکھنے پر متفق ہو چکا ہے اور اب اسے دستخط کرنے کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ نے کل شام جنوبی ایران میں متعدد مقامات پر فضائی حملے کیے تھے، جس کی وجہ امریکی صدر کا یہ دعویٰ تھا کہ تہران نے آبنائے ہرمز میں ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے۔ اس سے دونوں ممالک کے درمیان امن کے امکانات کے بارے میں شکوک و شبہات میں اضافہ ہوا ہے۔
ایرانی افواج نے کویت، بحرین اور اردن میں امریکی اڈوں کی جانب میزائل اور ڈرون داغ کر جواب دیا، جن کے بارے میں اطلاع ملی ہے کہ ان سب کو مار گرایا گیا اور روک دیا گیا۔
اسرائیل اور ایران کے درمیان بھی گذشتہ اتوار کی شام سے پیر کی صبح تک باہمی تصادم ہوا، جس کے بعد ٹرمپ کی جانب سے فریقین پر تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں فریقین نے حملے بند کرنے کا اعلان کیا۔
اس کشیدگی نے امریکہ اور تہران کے درمیان 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اگرچہ امریکی صدر نے گذشتہ مدت کے دوران درجنوں بار معاہدے کے قریب ہونے کا اعادہ کیا ہے۔