چار برس میں 2 لاکھ اموات... WHO کا یورپ کے لیے شدید گرمی کے حوالے سے انتباہ

ادارے کے علاقائی سربراہ کے مطابق گرمی کی لہریں ایک "خاموش قاتل" ہیں جن کے اثرات سے بچا جا سکتا ہے اگر یورپ اپنے پاس موجود دستیاب وسائل کو استعمال کرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

عالمی ادارہ صحت (WHO) نے خبردار کیا ہے کہ آب و ہوا کے بحران میں تیزی کے ساتھ ہی یورپ کو شدید گرمی کی لہروں سے اپنے شہریوں کے تحفظ کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ ادارے نے نشان دہی کی کہ یہ براعظم دنیا کے کسی بھی دوسرے خطے کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے گرم ہو رہا ہے۔

ادارے کے یورپی ریجنل ڈائریکٹر ہانس کلوگ نے کہا کہ گذشتہ چار سالوں کے دوران پورے خطے میں 2 لاکھ سے زائد افراد گرمی سے متعلق وجوہات کی بنا پر ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے گرمی کی لہروں کو ایک "خاموش قاتل" قرار دیا، جس کے اثرات سے بچا جا سکتا ہے اگر یورپ ان آلات کا استعمال کرے جو اس کے پاس پہلے سے موجود ہیں۔

کلوگ نے برلن میں گرمی کی لہروں سے نمٹنے کے لیے منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران گرمی سے تحفظ کے اقدامات پر تازہ ترین ہدایات پیش کیں، جس میں جرمن وزیر برائے ماحولیات کارسٹن شنائیڈر اور برلن میں صحت کی ذمہ دار سینیٹ رکن اینا چیبورا نے شرکت کی۔ اس تقریب میں بزرگ شہریوں اور سب سے زیادہ خطرے سے دوچار گروپوں کے تحفظ پر توجہ مرکوز کی گئی۔

شنائیڈر نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گرمی سے تحفظ ایک سماجی مسئلہ بھی ہے کیونکہ گنجان آباد شہری علاقوں اور شدید گرم رہائش گاہوں میں رہنے والے افراد کو بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے خود کو بچانے میں دشواری کا سامنا ہے۔

جرمن وزیر نے مزید کہا کہ اخراج (Emission) میں کمی اور شہروں کے اندر سبز علاقوں، جیسے درختوں، باغات، ندیوں، جنگلات اور آبی زمینوں کو وسیع کرنے سے گرمی کی لہروں کے اثرات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں