افغان طالبان نے حجاب قواعد کی مبینہ خلاف ورزی پر 30 خواتین کو گرفتار کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اقوامِ متحدہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغانستان کے مغربی شہر ہرات میں طالبان حکام نے کم از کم 30 خواتین کو حجاب اور لباس سے متعلق سرکاری قواعد کی مبینہ خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا۔ تاہم بعد میں بعض خواتین کو رہا بھی کر دیا گیا۔

اقوامِ متحدہ کا یہ بیان جمعرات کو سامنے آیا، جب منگل کے روز ہرات کے ضلع انجیل میں گرفتاریوں کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد سخت کریک ڈاؤن کیا گیا تھا۔

بیان میں اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یو این ویمن کے حوالے سے کہا گیا کہ:ان گرفتاریوں کے نتیجے میں افغانستان بھر کی خواتین اور لڑکیوں میں خوف اور تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

دوسری جانب افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن (یوناما) نے ایک الگ بیان میں ہرات میں مظاہرین کے خلاف طاقت کے مبینہ حد سے زیادہ استعمال پر تشویش کا اظہار کیا۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق آزاد ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی سکیورٹی فورسز نے مرد، خواتین اور بچوں پر مشتمل مظاہرین پر فائرنگ کی اور بعض افراد کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔

بیان کے مطابق اس واقعے میں کم از کم دو افراد، جن میں ایک لڑکا بھی شامل ہے، ہلاک ہوئے جبکہ 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان کی امر بالمعروف و نہی عن المنکر (اخلاقی پولیس) کے اہلکاروں نے احتجاجی مظاہروں سے قبل بعض خواتین کو حجاب کے قواعد پر عمل نہ کرنے کے الزام میں حراست میں لیا تھا۔

تاہم مقامی حکام نے ان اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی خاتون کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

طالبان نے 2021 میں کابل میں اقتدار سنبھالنے کے بعد خواتین اور لڑکیوں پر وسیع پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ ان پابندیوں میں تعلیم، ملازمت اور کھیلوں سمیت مختلف شعبوں تک رسائی پر قدغنیں شامل ہیں، جس پر عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے مسلسل تنقید کی جاتی رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں