امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں لڑی جانے والی امریکہ و اسرائیل کی مشترکہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخطوں کے لیے آج اتوار کے دن کو دستخط کرنے کا دن قرار دیا ہے۔ ان کے بقول اس طرح آبنائے ہرمز کھل جائے گی۔
امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ 'ٹروتھ سوشل' پر ہفتے کے روز لکھا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے پر دستخط کل فوری طور پر کر دیے جائیں گے۔ جس کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز کی اہم راہداری سب کے لیے یکساں طور پر کھل جائے گی۔
تاہم ان کے اس بیان پر ایران کی طرف سے آنے والے رد عمل میں کہا گیا ہے کہ کہ اس معاہدے پر اتوار کے روز دستخط ممکن نہ ہوں گے۔ یہ بات ایرانی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہی گئی ہے اور اسے ایران کی سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا ہے۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ کی پوسٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ امریکہ ایران کی تمام تر افزودہ کی گئی یورینیئم کو اپنے کنٹرول میں لے گا اور پھر اسے تباہ کردے گا۔ تاہم یہ کام مناسب وقت پر کیا جائے گا جب سب طرح امن ہو چکا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا ہمارے خوبصورت بی 52 جنگی طیارے اپنے بہترین پائلٹوں کے ساتھ ایران جائیں گے اور جوہری خاک تک رسائی حاصل کرتے ہوئے گرینائٹ کے پہاڑوں میں چھپائی گئی اس یورینیئم کو ختم کر دیں گے۔ افزودہ یورینیئم کی تباہی کا یہ عمل ایران میں ہو گا یا امریکہ میں لا کر کیا جائے گا۔
ٹرمپ نے ایران کے بارے میں اپنے مستقبل کے ارادوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہم ایران اور پورے مشرق وسطیٰ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں۔ یہ اشتراک کار مستقبل میں دور تک اور دیر تک جاری رہے گا۔
اس کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے اپنی اسی پوسٹ میں ایران کو دھمکانے کا انداز جاری رکھتے ہوئے کہا ایران کو معاہدے کے سلسلے میں مکمل منصوبے پر عمل کرنا ہوگا بصورت دیگر اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
ٹرمپ نے امید ظاہر کی یہ سارا عمل جلدی سے مکمل ہو جائے گا۔ آسانی اور اور اچھی طرح۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ ہمیں اس راستے کے بجائے دوسرا راستہ اختیار کرنے کی دوبارہ ضرورت نہیں پڑے گی۔ امید ہے دوبارہ استعمال نہیں کرنا پڑے گا۔