یورپی کمیشن کی خاتون صدر ارسولا فون ڈیر لائن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولا جانا چاہیے۔ آج پیر کو جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اب اولین ترجیح تمام فریقوں کی جانب سے معاہدے پر فوری اور مکمل عمل درآمد ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاز رانی کی آزادی کو بغیر کسی فیس کے بحال کیا جانا چاہیے، کیونکہ یہ علاقائی استحکام اور عالمی معیشت کے لیے ضروری ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن و امان کے لیے وسیع تر مذاکرات کی راہ ہموار کرتا ہے۔
ڈیر لائن نے مزید کہا کہ لبنان میں جاری جنگ کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں امن کا قیام نا ممکن ہو گا۔ یورپی یونین ایک بار پھر تمام فریقوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ لبنان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں اور جنگ بندی پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد کریں۔
دوسری جانب یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے کہا کہ امریکی ایرانی معاہدہ جنگ کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے پلیٹ فارم "ایکس" پر ایک پوسٹ میں اشارہ کیا کہ یونین اب اگلے مرحلے میں اپنی شمولیت کے طریقوں پر غور کرے گی۔ برسلز میں یورپی یونین کے 27 رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل کالاس نے کہا کہ بلاک ایک پائیدار حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے، جس کی شروعات اقتصادی اثر و رسوخ، جوہری مہارت اور خلیجی شراکت داروں کے ساتھ طویل مدتی تعلقات سے ہو گی۔
یہ یورپی رد عمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ شام اعلان کیا کہ ان کے ملک اور ایران کے درمیان ابتدائی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ بعد ازاں انہوں نے تصدیق کی کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھول دیا جائے گا اور جہاز رانی پر کوئی پابندی یا فیس نہیں ہو گی۔
ادھر ایرانی ذرائع نے اس تزویراتی آبی گزرگاہ کے انتظام کے لیے سلطنت عمان کے ساتھ مشترکہ انتظام کی بات کی ہے، جہاں 28 فروری کو امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ چھڑنے کے بعد سے نقل و حمل مفلوج ہو کر رہ گئی تھی۔
The US and Iran have announced a deal to end the war and re-open the Strait of Hormuz.
— Kaja Kallas (@kajakallas) June 15, 2026
This marks a potential breakthrough. It can give much needed space for deeper negotiations on Iran’s nuclear programme and other critical issues. Once implemented, the deal should also ease…
یاد رہے کہ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ کے دوران بارہا یورپی ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، ان پر امریکہ کی حمایت نہ کرنے یا ہرمز کو کھولنے کے لیے فوجی طور پر شامل نہ ہونے کا الزام لگایا تھا... اور انہیں آبنائے کی بندش سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا فریق قرار دیا تھا۔
-
ترکیہ کا اظہارِ امید: امریکہ اور ایران کے مزید مذاکرات معاہدے کے لیے معاون ہوں گے
ترک وزیرِ خارجہ خاقان فیدان نے پیر کے روز ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے فون پر بات ...
مشرق وسطی -
پاکستان جنیوا میں امریکہ-ایران امن معاہدے کی تقریب کی میزبانی کرے گا: شہباز شریف
تقریب جمعے کو ہو گی، شہباز شریف کی جنرل عاصم منیر کے "غیر معمولی سفارتی کردار" کی ...
مشرق وسطی -
ایرانی امریکی معاہدے کے کو درپیش 5 خطرات... پہلا خطرہ نیتن یاہو کے بم ہیں
ایران کے ساتھ امن معاہدے کے دائرہ کار تک پہنچنے کے بعد، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ...
بين الاقوامى