لبنان پر اسرائیلی حملے رکوانے کی ذمہ داری واشنگٹن پر عائد ہوتی ہے:عراقچی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیل کی جانب سے لبنان، شام اور غزہ میں موجود ''سکیورٹی زونز'' سے انخلا نہ کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے زور دیا ہے کہ امریکا ان کے ملک کے ساتھ گزشتہ روز اعلان کردہ معاہدے پر عمل درآمد کا ذمہ دار ہے۔

عراقچی نے پیر کے روز ترکی، مصر اور عراق کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ ٹیلیفونک رابطوں کے دوران اس بات پر زور دیا کہ لبنان پر اسرائیل کے تمام حملے اور جارحانہ کارروائیاں مکمل طور پر بند ہونی چاہئیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے فریم ورک معاہدے پر عمل درآمد کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے۔ یہ بات ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے حوالے سے سامنے آئی ہے۔

غیر معینہ مدت تک

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے آج پہلے اعلان کیا کہ اسرائیلی فوج لبنان میں اپنے زیرِ قبضہ علاقوں سے واپس نہیں ہٹے گی۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل لبنان، شام اور غزہ میں اپنے کنٹرول والے علاقوں میں ''غیر معینہ مدت تک'' موجود رہنے کا ارادہ رکھتا ہے۔



کاٹز نے ایران کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران لبنان میں اسرائیلی حملوں کے جواب میں اسرائیل پر کوئی حملہ کرتا ہے تو اسرائیل اس کا ''بہت سخت اور بھرپور جواب'' دے گا۔

یاد رہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ معاہدے کو تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے اور لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی حملے بند ہونے سے مشروط قرار دیا تھا۔



گزشتہ ڈھائی برس کے دوران اسرائیلی فوج نے غزہ کے وسیع علاقوں، لبنان کی سرحد کے اندر واقع درجنوں دیہات اور قصبوں، نیز شام کے بعض علاقوں پر کنٹرول قائم کیا ہے۔

ان تمام زیرِ قبضہ علاقوں کا مجموعی رقبہ تقریباً ایک ہزار مربع کلومیٹر بنتا ہے، جو امریکی شہر نیویارک کے رقبے سے کچھ کم ہے۔

دوسری جانب سفارتی ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان اس ہفتے دوحہ میں بالواسطہ مذاکرات متوقع ہیں، جن کے بعد آئندہ جمعہ کو جنیوا میں اس معاہدے پر باضابطہ دستخط کیے جانے کا امکان ہے۔ یہ معلومات ایک باخبر سفارت کار نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو فراہم کی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں