عثمانی شہزادے کی جائیداد کے معاملے کا جلد حتمی حل سامنے آئے گا : مصری اوقاف

یہ مصر کے کل زرعی رقبے کے تقریباً 7 فیصد کا مالک ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

مصری وزارت اوقاف نے پارلیمنٹ میں ایک با ضابطہ اجلاس منعقد کیے جانے کا اعلان کیا ہے جس میں متعدد عہدے داروں نے سلطنت عثمانیہ کے شہزادے مصطفیٰ عبد المنان کی وقف جائیداد پر تبادلہ خیال کیا۔ یہ جائیداد ملک کے 7 فی صد سے زائد زرعی رقبے پر محیط ہے۔

وزارت نے پیر کی شام جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ وزیر اسامہ الازہری نے پارلیمنٹ کی آئینی و قانون ساز کمیٹی کی دعوت پر ایوان کا دورہ کیا تاکہ مختلف صوبوں میں پھیلی مصطفیٰ عبد المنان کی وقف جائیداد کے حوالے سے اوقاف اتھارٹی کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

کمیٹی نے زیر بحث وقف کے حوالے سے کیے گئے اقدامات، اس کے شرعی اور قانونی جواز کا جائزہ لیا اور وقف سے متعلق دستاویزات اور نوٹسز کے مختلف پہلوؤں پر بھی بحث کی۔

وزیر اوقاف نے اس بات پر زور دیا کہ وزارت وطن کے قابل احترام شہریوں کے حقوق کے تحفظ اور اوقاف کے سرمائے کی حفاظت و نشوونما کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ مصری ریاست اس معاملے کو تیزی سے نمٹا رہی ہے تاکہ مصالحت اور ریئل اسٹیٹ رجسٹریشن کے تمام معاملات کا فوری اور حتمی حل نکالا جا سکے۔ اس طرح شہریوں کے لیے آسانی پیدا ہو اور ان کی مشکلات کم کی جا سکیں، جبکہ ریاست وقف اتھارٹی کو متبادل زمینیں فراہم کر کے وقف کے حقوق کا تحفظ کرے گی۔

وزیر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اتھارٹی وقف کے سرمائے کی حفاظت کرتی ہے اور اسے آئین و قانون کے مطابق شہریوں کے حقوق یا مفادات کو نقصان پہنچائے بغیر ترقی دینے کے لیے کوشاں ہے۔

یاد رہے کہ مئی میں مصر کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس "نا معلوم شہزادے" کی کہانی نے ہلچل مچا دی تھی جو مصر کی 7 فی صد زرعی زمین کا مالک ہے۔ صدیوں کی خاموشی کے بعد قانونی اور عوامی سطح پر بحث کا طوفان کھڑا ہوا، جہاں مصریوں نے خود کو اچانک ایک "عثمانی شہزادے" کے نام کے سامنے پایا جس کا تعلق ملک کے کل زرعی رقبے کے تقریباً 7 فی صد کے برابر وسیع زمینوں سے ہے۔ اس نے حکام کو اس معاملے پر فوری مداخلت کرنے پر مجبور کیا جو مصری اوقاف کی تاریخ میں سب سے بڑا اور پیچیدہ معاملہ سمجھا جا رہا ہے۔

ایک اہم سرکاری اقدام کے تحت، ریئل اسٹیٹ رجسٹریشن اور ڈاکومنٹیشن ڈیپارٹمنٹ نے ایک فنی نوٹس جاری کیا جس میں شہزادہ مصطفیٰ عبد المنان کی وقف جائیداد کے حق سے متعلق زمینوں پر کسی بھی قسم کے لین دین یا تصرفات کو روکنے کا حکم دیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ محض ایک انتظامی کارروائی نہیں تھی، بلکہ یہ برسوں سے جاری عدالتی تنازعات پر قانونی "توقف" کی مانند تھا، کیونکہ اس وقف کا کل رقبہ تقریباً 4 لاکھ 20 ہزار ایکڑ ہے، جو تین صوبوں میں پھیلا ہوا ہے۔ کفر الشیخ جس میں تقریباً 2 لاکھ 56 ہزار ایکڑ، دقہلیہ جس میں 74 ہزار ایکڑ اور دمیاط جس میں 89 ہزار ایکڑ شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں