واشنگٹن کا ایران کے ساتھ معاہدے کی اسرائیل کو بتانے سے انکار ، لیک ہونے کا خدشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیلی چینل 12 کے مطابق اسرائیل نے امریکا سے ایران کے ساتھ مجوزہ جوہری معاہدے کا متن دیکھنے کی درخواست کی، تاہم واشنگٹن نے یہ درخواست مسترد کر دی۔

چینل نے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو معاہدے کے باضابطہ اجرا سے قبل اس کی تفصیلات منظرِ عام پر لا سکتے ہیں، جس کی وجہ سے اسرائیل کو معاہدے کی مکمل معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل اب بھی متوقع معاہدے کی مکمل تفصیلات سے لاعلم ہے اور امریکی انکار کے باعث اسرائیلی حکام حالیہ مفاہمت کی اہم شقوں تک رسائی حاصل نہیں کر سکے۔

مجوزہ مفاہمتی یادداشت (Memorandum of Understanding) ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق وسیع تر مذاکرات کے لیے ایک عمومی فریم ورک فراہم کرے گی۔ دونوں فریق معاہدے پر دستخط کے بعد 60 روز کے اندر حتمی سمجھوتے تک پہنچنے کا ہدف رکھتے ہیں۔

اس سے قبل امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیل کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان ہونے والے ممکنہ معاہدے پر شدید تحفظات ہیں، جو تین ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

اخبار کے مطابق نیتن یاہو صدر ٹرمپ سے ہنگامی ملاقات کے خواہاں ہیں تاکہ معاہدے میں موجود اُن نکات پر بات کی جا سکے جنہیں وہ ’’متضاد معاملات‘‘ قرار دیتے ہیں۔

اسرائیل میں تشویش اس وقت مزید بڑھ گئی جب معاہدے کی بعض شقیں واضح نہ ہو سکیں، حالانکہ صدر ٹرمپ الیکٹرانک طور پر اس کی منظوری دے چکے ہیں۔

معاہدے پر باضابطہ دستخط جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ میں متوقع ہیں۔سوئس حکومت نے منگل کو جاری بیان میں کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان عبوری معاہدے پر جمعہ 19 جون کو وسطی سوئٹزرلینڈ کے علاقے بورگن اسٹاک میں دستخط کیے جا سکتے ہیں۔

سوئس وزارتِ خارجہ کے مطابق اس سلسلے میں امریکا، ایران، پاکستان اور قطر کے ساتھ قریبی رابطے جاری ہیں۔ وزارت نے بتایا کہ بورگن اسٹاک میں معاہدے پر دستخط کی تجویز پاکستانی اور قطری ثالثوں کے علاوہ امریکا اور ایران نے بھی دی تھی۔

دستخط کی تقریب وسطی سوئٹزرلینڈ میں جھیل لوسیرن کے کنارے واقع پہاڑی مقام بورگن اسٹاک کے ایک پُرتعیش ہوٹل میں منعقد ہونے کا امکان ہے۔

سوئس وزارتِ خارجہ نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ یہ مقام نسبتاً دشوار گزار ہے، جس کے باعث اس کی سکیورٹی کو مؤثر انداز میں یقینی بنانا آسان ہوتا ہے۔ وزارت نے مزید کہا کہ فی الحال دستخطی تقریب کی تفصیلات اور طریقۂ کار کے بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کی جا سکتیں۔

ایرانی حکام کے مطابق امریکا کی جانب سے نائب صدر جے ڈی وینس جبکہ ایران کی جانب سے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف اپنے اپنے وفود کی قیادت کرتے ہوئے سوئٹزرلینڈ میں معاہدے پر دستخط کریں گے۔

جے ڈی وینس نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو میں بتایا کہ مجوزہ دستاویز تقریباً ''ڈیڑھ صفحے'' پر مشتمل ہے اور اس کا زیادہ تر حصہ عمومی نوعیت کے نکات پر مبنی ہے۔

انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ دستخطی تقریب میں شرکت کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ صدر ٹرمپ اس وقت فرانس کے شہر ایویان میں منعقدہ جی 7 سربراہی اجلاس میں شریک ہیں، جو جھیل لیمن (جنیوا) کے فرانسیسی کنارے پر واقع ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں