وزیرِ دفاع: صومالی لینڈ میں اسرائیلی فوجی مرکز قائم کرنے کے لیے کوئی بات نہیں ہوئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

صومالی لینڈ کے وزیرِ دفاع محمد یوسف علی نے بدھ کے روز رائٹرز کو بتایا ہے کہ صومالی لینڈ میں اسرائیلی فوج موجود نہیں ہے اور اسرائیل نے وہاں اپنا مرکز کھولنے کے بارے میں کوئی بات نہیں کی ہے۔

تل ابیب میں ایک کاروباری کانفرنس کے موقع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ اسرائیل صومالی لینڈ کی فوج اور پولیس کو تربیت دے رہا ہے لیکن ان خبروں کو مسترد کر دیا کہ اسرائیل نے اس علاقے میں فوجی مرکز قائم کرنے کے لیے بات کی ہے۔

صومالی لینڈ میں اسرائیل کے سفیر مائیکل لوٹم نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

تزویراتی طور پر راس افریقہ پر واقع صومالی لینڈ نے 1991 میں خانہ جنگی کا شکار ہونے والے صومالیہ سے الگ ہو جانے کے بعد مؤثر خود مختاری — اور نسبتاً امن و استحکام — کا لطف اٹھایا ہے۔

اسرائیل نے گذشتہ دسمبر میں صومالی لینڈ کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا تھا جو باضابطہ طور پر ایسا کرنے والا پہلا ملک تھا۔ صومالیہ نے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے اسے اپنی خودمختاری پر "دانستہ حملہ" قرار دیا تھا۔

فروری میں صومالی لینڈ کے صدر عبدالرحمٰن محمد عبداللہی نے رائٹرز کو بتایا، اگرچہ صومالی لینڈ مستقبل میں اسرائیل سے فوجی تعاون کی امید رکھتا ہے لیکن اسرائیلی فوجی مراکز کے قیام پر بات نہیں ہوئی۔

دی صومالی گارڈین نے اتوار کو بتایا کہ اسرائیل نے صومالی لینڈ میں ایک انٹیلی جنس بیس کھول لیا تھا اور وہاں اسرائیلی فوجی مرکز کے ممکنہ قیام پر بات چیت ہوئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں