امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ابتدائی معاہدے کے ناقدین پر نکتہ چینی کرتے ہوئے انھیں احمق قرار دیا ہے۔
ٹرمپ نے آج جمعرات کو اپنے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں لکھا "یہ وہ احمق ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ میں ایران کے ساتھ کافی سخت نہیں تھا، جبکہ اس وقت اسٹاک مارکیٹ ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے اور تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے"۔
انھوں نے مزید کہا "وہ یا تو حاسد ہیں، یا برے لوگ ہیں یا پھر بے وقوف"۔ ٹرمپ نے اپنے معمول کے نعرے کے ساتھ بات ختم کی کہ 'چلو امریکہ کو دوبارہ عظیم بنائیں'۔
اس سے قبل ٹرمپ نے گذشتہ شام فرانس کے تاریخی ورسائی محل سے ایرانی فریق کے ساتھ مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کیے۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی اس یاد داشت پر دستخط کیے، جس میں 60 دنوں تک جوہری فائل پر تکنیکی مذاکرات کرنے کی شق موجود ہے۔
وائٹ ہاؤس نے فرانسیسی صدر ایمانوئیل ماکروں اور ان کی اہلیہ بریجٹ کی موجودگی اور ٹرمپ کی ٹیم اور سر فہرست وزیر خارجہ مارکو روبیو کی موجودگی میں ورسائی محل میں امریکی صدر کے یاد داشت پر دستخط کرنے کے مناظر جاری کیے۔
ایرانی اور امریکی حکام نے گذشتہ شام اس بات کی تصدیق کی تھی کہ جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کا عمومی خاکہ الیکٹرانک طور پر دستخط ہو چکا ہے اور اس پر عمل درآمد شروع ہو گیا ہے۔
معاملے سے واقف دو افراد نے وضاحت کی کہ معاہدے پر ابتدائی دستخط کا مقصد آبنائے ہرمز کو تیزی سے دوبارہ کھولنے کو یقینی بنانا تھا، جیسا کہ axios ویب سائٹ نے بتایا ہے۔
تہران نے بڑی حد تک آبنائے میں جہاز رانی کو معطل کر دیا تھا جو فروری کے آخر میں جنگ شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد دھمکیوں اور بحری جہازوں پر حملوں کے ذریعے تیل، گیس اور کھاد کی عالمی تجارت کے لیے ایک اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔ اپریل میں امریکہ نے تہران کو اس کی تیل کی آمدنی سے محروم کرنے کی کوشش میں ایرانی بندرگاہوں کا بحری محاصرہ کر لیا تھا۔
لیکن ہفتوں کے مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران گذشتہ اتوار کو ایک فریم ورک معاہدے پر پہنچ گئے، جس کا مقصد تکنیکی مذاکرات کے لیے راستہ ہموار کرنا تھا جو کل بروز جمعہ سوئٹزرلینڈ میں شروع ہوں گے۔
واضح رہے کہ ٹرمپ نے کل اس بات پر زور دیا تھا کہ معاہدہ ابھی بھی مشروط ہے۔ انھوں نے دھمکی دی کہ اگر تہران نے اس کی شرائط پر عمل نہ کیا تو فوجی کارروائی دوبارہ شروع کر دی جائے گی۔ انہوں نے گروپ سیون سمٹ کے دوران کہا "یہ مفاہمت کی ایک یاد داشت ہے اور اگر مجھے یہ پسند نہ آئی تو ہم دوبارہ ان پر گولیاں چلائیں گے اور ان کے سروں پر بم گرائیں گے۔ اگر انہوں نے اس پر عمل نہ کیا جس کا تقاضا ہے، تو ہم سیدھے ان کے مقامات کے مرکز پر بمباری کرنے کی طرف واپس چلے جائیں گے"۔
-
ایران کے ساتھ مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کے وقت ٹرمپ کا پہلا تبصرہ کیا تھا ؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج جمعرات کی صبح سویرے ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت ...
بين الاقوامى -
امریکا اور ایران کے اجلاس کی تیاریاں جاری، ملاقات کل متوقع:سوئٹزرلینڈ کی تصدیق
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر ...
بين الاقوامى -
میزائل پروگرام امریکہ سے مذاکرات کا حصہ نہیں:ایرانی وزارت خارجہ
ایران نے اعلان کیا ہے کہ اس کا بیلسٹک میزائل پروگرام امریکہ کے ساتھ ہونے والے ...
مشرق وسطی