یورپی کونسل نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے علاقائی استحکام کو مضبوط بنانے، جہاز رانی کی آزادی کو مکمل طور پر بحال کرنے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانے کا ایک موقع قرار دیا ہے۔
العربیہ اور الحدث کو موصول ہونے والے مسودہ بیان میں کونسل نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔ کونسل نے تہران سے مطالبہ کیا کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت اپنی قانونی ذمہ داریوں کو پورا کرے اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ اپنے مکمل تعاون کو بحال کرے۔
کونسل نے ایران سے بیلسٹک میزائل پروگرام سمیت خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں کو روکنے کا مطالبہ بھی کیا۔ بیان میں ایرانی انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے مجرمانہ نیٹ ورکس اور بیرونی گماشتوں کے استعمال پر انتباہ دیا گیا اور یورپی یونین اور اس کے رکن ممالک کے ان سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
بحری سکیورٹی اور آزادی
کونسل نے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے سمندری قانون کے کنونشن کے مطابق جہاز رانی کی آزادی اور بحری سکیورٹی کے احترام پر زور دیا۔ کونسل نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے رکن ممالک اور شراکت داروں کی جانب سے اعلان کردہ اقدامات کا خیرمقدم کیا اور اس بات پر زور دیا کہ آبنائے سے متعلق کوئی بھی انتظام جہاز رانی کی آزادی کو محدود نہ کرے۔
یورپی یونین نے توانائی کی سپلائی کے راستوں کو متنوع بنا کر بحران کے اثرات کو کم کرنے اور آبنائے ہرمز پر عالمی انحصار کو کم کرنے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ کام جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ کونسل نے توانائی کی سکیورٹی، قیمتوں اور عالمی سپلائی چینز بشمول غذائی تحفظ پر بحران کے اثرات سے نمٹنے کے لیے یورپی کمیشن کی جانب سے پیش کردہ اقدامات کا نوٹس لیتے ہوئے کونسل اور کمیشن پر زور دیا کہ وہ پیش رفت کی نگرانی جاری رکھیں۔
کونسل نے آخر میں اصل اور راہداری کے ممالک کے ساتھ تعاون کے ذریعے مستقبل میں ہجرت کے بہاؤ سمیت کسی بھی ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے تیاری اور مستعدی بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔
برسلز میں یورپی سربراہی اجلاس
خیال رہے کہ یورپی یونین کے رہنما جمعرات اور جمعہ کو برسلز میں ایک سربراہی اجلاس منعقد کر رہے ہیں جس میں بڑی جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کے درمیان بلاک کے مستقبل کے خدوخال طے کرنے والے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ یہ سربراہی اجلاس ایران اور امریکہ کے درمیان مشرق وسطیٰ میں تنازع کے خاتمے کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔
ایک امریکی اعلیٰ عہدیدار کی جانب سے بدھ کے روز صحافیوں کو پڑھ کر سنائی گئی موجودہ مفاہمت کی یادداشت کے مطابق امریکہ دستخط کے فوراً بعد ایرانی تیل کی فروخت پر عائد اپنی پابندیاں معطل کر دے گا۔ واشنگٹن 60 دن کے مذاکرات کے بعد حتمی معاہدے کے نتیجے میں تہران پر عائد تمام پابندیاں اٹھانے کا بھی پابند ہوگا۔
معاہدے کے تحت ایران کو آبنائے ہرمز میں 30 دن کے اندر بحری جہاز رانی کو مکمل طور پر بحال کرنے کی اجازت دینی ہوگی کیونکہ اس کے مسلسل بندش سے عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
-
امریکا اور ایران کے اجلاس کی تیاریاں جاری، ملاقات کل متوقع:سوئٹزرلینڈ کی تصدیق
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر ...
بين الاقوامى -
میزائل پروگرام امریکہ سے مذاکرات کا حصہ نہیں:ایرانی وزارت خارجہ
ایران نے اعلان کیا ہے کہ اس کا بیلسٹک میزائل پروگرام امریکہ کے ساتھ ہونے والے ...
مشرق وسطی -
'احمق اور حاسد ہیں'... ایران کے ساتھ معاہدے کے ناقدین پر ٹرمپ کی نکتہ چینی
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ابتدائی معاہدے کے ناقدین پر نکتہ چینی ...
بين الاقوامى