لبنان میں عوام کی نظریں آئندہ بدھ 22 جون 2026 کو واشنگٹن میں ہونے والے لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے پانچویں دور پر مرکوز ہیں، جو امریکا کی سرپرستی میں منعقد ہوگا۔
یہ مذاکرات امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے پر دستخط کے بعد ہو رہے ہیں۔یہ مذاکرات تین دن تک جاری رہیں گے اور انہیں دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: ایک عسکری اور دوسرا سیاسی۔
لبنانی وفد کی قیادت سفیر سیمون کرم کریں گے، جبکہ فوجی وفد کی قیادت لبنانی فوج کے آپریشنز کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر جورج رزق اللہ کے سپرد ہوگی۔
یہ دور اس لیے خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ یہ امریکا اور ایران کے معاہدے کے ان اعلانات کے ساتھ ہم آہنگ ہے جن میں زیادہ تر محاذوں پر جنگ بندی کی بات کی گئی ہے اور متعلقہ فریقوں یعنی اسرائیل اور حزب اللہ کو ایک دوسرے کے خلاف فوجی کارروائیاں روکنے کا پابند بنایا گیا ہے۔
اسرائیلی انخلا کی ترتیب
سرکاری ذرائع نے العربیہ/الحدث ڈاٹ نیٹ کو بتایا ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے پانچویں دور کے مذاکرات انتہائی اہم ہیں، کیونکہ ان کا مقصد جنگ بندی کو مستقل اور حتمی شکل دینا ہے۔یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے میں بھی اسی نکتے کو شامل کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری مذاکرات کے لیے ایک مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مکمل اور سنجیدہ جنگ بندی، جو لبنانی وفد کی بنیادی شرط تھی، اب امریکا اور ایران کے مشترکہ موقف کے باعث پہلے ہی عملی طور پر آگے بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔
اسی لیے مذاکرات میں دیگر معاملات پر بات چیت سے قبل جس سخت مؤقف کی ضرورت تھی، وہ اب نسبتاً نرم ہو گیا ہے، کیونکہ دونوں بڑی طاقتوں کا رجحان اسی سمت میں ہے کہ خطے میں کشیدگی کو کم کیا جائے اور جنگ بندی کو برقرار رکھا جائے۔
تجرباتی علاقے
سرکاری ذرائع نے زور دے کر کہا ہے کہ جنگ بندی کے مطالبے پر پیش رفت کے بعد پانچویں دور کے مذاکرات میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی انخلا کے انتظامات اور اس کے لیے ایک واضح ٹائم لائن پر بات ہوگی، جس میں تجرباتی علاقوں (Pilot Zones) کے تصور کو بھی شامل کیا جائے گا۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق جو گزشتہ ماہ کے آخر میں واشنگٹن میں ہونے والے چوتھے دور کے مذاکرات کے بعد جاری کیا گیا تھا، دونوں فریق اس بات پر متفق ہوئے تھے کہ جنوبی لبنان میں ایسے تجرباتی علاقے قائم کیے جائیں گے جہاں صرف لبنانی فوج کو مکمل کنٹرول حاصل ہوگا اور غیر ریاستی عناصر کو وہاں سے باہر رکھا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق لبنان اپنی جانب سے اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کو امریکی سرپرستی میں جاری رکھنے کے مؤقف پر قائم ہے، کیونکہ اسے جنوبی لبنان میں ریاستی خودمختاری قائم کرنے کا واحد راستہ سمجھا جا رہا ہے۔اسی کے ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ اسرائیل پر دباؤ بڑھائے گا کہ وہ جنگ بندی پر سختی سے عمل کرے اور جنوبی لبنان سے بتدریج انخلا کرے۔
مزید یہ کہ لبنانی مؤقف کے مطابق ریاستی اداروں کی بالادستی اور فوج کی جنوبی لبنان میں مکمل تعیناتی کے فیصلے پر نظرِ ثانی نہیں کی گئی اور یہ پالیسی عرب، علاقائی اور بین الاقوامی حمایت رکھتی ہے۔
دوسری جانب اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی عسکری کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، اگرچہ ان کی شدت پہلے کے مقابلے میں کم ہے، جبکہ حزب اللہ بھی اسرائیلی افواج اور ان کی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے۔
اس سے قبل اسرائیلی ذرائع نے کہا تھا کہ وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو آگاہ کیا ہے کہ اسرائیلی افواج اس وقت تک جنوبی لبنان سے نہیں نکلیں گی جب تک حزب اللہ کو غیر مسلح نہیں کیا جاتا۔
اعداد وشمار کے مطابق 2 مارچ سے اب تک لبنان میں جاری کشیدگی کے دوران 3826 افراد ہلاک اور 11851 زخمی ہو چکے ہیں۔