نئی کتاب ''رجیم چینج'' (Regime Change) میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ سال وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ایک نجی ڈنر کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور میڈیا ٹائیکون روپرٹ مرڈوخ کے درمیان ایک اہم گفتگو ہوئی، جس میں مرڈوخ نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو نائب صدر جے ڈی وینس پر برتری دی۔
کتاب کے یہ اقتباسات صحافی میگی ہیبرمین اور جوناتھن سوان نے تحریر کیے ہیں، جن تک رسائی ویب سائٹ ''ایکسِیوس'' کو حاصل ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ اکثر اپنے مہمانوں سے 2028 کے صدارتی انتخابات کے حوالے سے ریپبلکن رہنماؤں کے بارے میں رائے لیتے رہے ہیں، تاہم اس بار صورتحال مختلف تھی کیونکہ وینس اور روبیو دونوں خود بھی اس گفتگو کے دوران موجود تھے۔
کتاب میں بتایا گیا ہے کہ مرڈوخ نے پہلے بھی ٹرمپ کو 2024 کے انتخابات میں وینس کو نائب صدر منتخب نہ کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کی تھی، اسی وجہ سے ان کی رائے کو خاص اہمیت دی گئی۔
گفتگو کے دوران جب ٹرمپ نے وینس کے بارے میں رائے پوچھی تو مرڈوخ نے کہا: میرے خیال میں جے ڈی میں بڑی صلاحیت موجود ہے۔ اور جب روبیو کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فوراً جواب دیا: مارکو ایک ذہین اور نمایاں شخصیت ہیں۔
مصنفین کے مطابق اس ملاقات کے بعد یہ گفتگو ہفتوں تک زیرِ بحث رہی اور اسے ریپبلکن پارٹی کے مستقبل کے حوالے سے ایک اہم اشارہ سمجھا گیا۔
کتاب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ اگر وینس 2028 میں صدارتی نامزدگی کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں سخت سیاسی چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب جے ڈی وینس نے ایک انٹرویو میں کہا کہ کتاب میں شامل بعض تفصیلات نے انہیں اس حوالے سے تشویش میں مبتلا کیا ہے کہ ممکنہ طور پر حساس سرکاری ملاقاتوں کی خفیہ ریکارڈنگ کی گئی ہو، جو ان کے مطابق ایک سنگین قانونی معاملہ بن سکتا ہے۔
کتاب میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ 16 اکتوبر 2025 کو ہونے والے ایک عشائیے کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ اور روپرٹ مرڈوخ کے تعلقات میں بہتری دیکھنے میں آئی، حالانکہ اس سے قبل دونوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔
یہ تناؤ اس وقت شروع ہوا، جب ٹرمپ نے مرڈوخ اور اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا، جس کی وجہ ایک ایسی رپورٹ بنی تھی ،جس میں صدر کے ماضی اور جیفری ایپسٹین سے مبینہ تعلقات کا ذکر کیا گیا تھا۔
مصنفین کے مطابق مرڈوخ کی میڈیا ایمپائر سے وابستہ بعض ادارے اب بھی ٹرمپ کے قریبی حلقے کے ساتھ خوشگوار تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ نیوز کارپ کے بعض اعلیٰ حکام نے اس بات پر بھی غور کیا کہ ایک ایسی کتاب شائع کی جائے جس میں ٹرمپ کو ''امن کے صدر'' کے طور پر پیش کیا جائے، کیونکہ ان کے خیال میں یہ کتاب بڑی تجارتی کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔