امریکی فوج کا آبنائے ہرمز میں معمول کی نقل و حمل جاری رکھنے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت میں آج اضافہ دیکھا گیا ہے۔ امریکی فورسز خطے میں جہاز رانی کی آزادی کو سپورٹ کرنے کے لیے اپنے آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہیں اور کمانڈ نے ایران کے ساتھ معاہدے کی تمام شقوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہ سے محفوظ گزرگاہ آج دستیاب ہے اور بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 55 تجارتی جہاز بڑی مقدار میں سامان اور 17 ملین بیرل سے زائد خام تیل لے کر عالمی منڈیوں کی جانب رواں دواں ہیں۔

امریکی کمانڈ نے مزید کہا کہ امریکی افواج ایران کے ساتھ معاہدے کی تمام شقوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے اور اسے مکمل طور پر فعال رکھنے کے لیے اپنی موجودگی اور چوکس رہنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔

امریکی فوج کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا تھا حالانکہ گذشتہ بدھ کی رات ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے بعد اسے کھول دیا گیا تھا۔

ایران کی مشترکہ اعلیٰ فوجی کمانڈ نے آج ہفتے کے روز ایک بیان میں اعلان کیا کہ لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کو جہازوں کی نقل و حرکت کے لیے بند کیا جا رہا ہے۔ مہر نیوز ایجنسی کے مطابق بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ بندش جنگ بندی کی مفاہمت کی امریکی اور اسرائیلی خلاف ورزیوں کے الزامات کے بعد عمل میں آئی ہے جس میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ و دشمنی کے خاتمے کی شرط رکھی گئی تھی۔

پاسداران انقلاب نے دھمکی دی ہے کہ یہ بندش ایک ابتدائی قدم ہے اور اگر جارحیت جاری رہی تو مزید اقدامات کیے جائیں گے۔

اسی دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے آج کہا کہ انہیں یقین ہے کہ تہران کے ساتھ واشنگٹن کے 14 نکاتی معاہدے میں طے پانے والی جنگ بندی برقرار رہے گی اور انہیں آبنائے ہرمز کی بندش کا کوئی ثبوت نظر نہیں آتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں