امریکہ-ایران معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پاکستانی،سعودی، مصری اور ترک وزراء خارجہ کی ملاقات
مذاکرات، سفارت کاری اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے علاقائی اشتراک کے عزم کا اعادہ
پاکستانی، سعودی، ترک اور مصری وزراء خارجہ نے اتوار کو قاہرہ میں ملاقات کی جس میں علاقائی پیش رفت اور امریکہ ایران امن معاہدے پر تبادلۂ خیال کیا گیا، پاکستانی وزارتِ خارجہ نے کہا جب معاہدے پر فالو اپ گفتگو کے لیے امریکی اور ایرانی حکام سوئٹزرلینڈ پہنچے۔
اس موقع پر تکنیکی سطح پر مذاکرات کے لیے پاکستانی اور قطری ثالثین بھی موقع پر موجود تھے۔
مذاکرات کے موقع پر تہران نے اعلان کیا کہ اس نے لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی مہم پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دی۔ عبوری معاہدے کا مقصد لبنان سمیت تمام محاذوں پر لڑائی روکنا ہے اور ساتھ ہی ایران کے اربوں ڈالر کے اثاثہ جات جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
آر-فور کا قاہرہ میں ہونے والا اجلاس ایک "محدود شکل" میں شروع ہوا۔ یہ مصر، سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کا ایک فریم ورک ہے جو امریکہ ایران تنازع کے خاتمے اور شرقِ اوسط کے استحکام میں مدد دینے کے لیے مشاورت کو تیز کرنے کی غرض سے بنایا گیا۔
چاروں وزراء خارجہ نے علاقائی پیش رفت، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد اور تعاون کے ترجیحی شعبوں پر تبادلۂ خیال کیا اور مذاکرات، سفارت کاری اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے علاقائی اشتراک کے عزم کا اعادہ کیا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قطر نے سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات شروع کرنے کی تصدیق کی ہے۔
قطر کی وزارتِ خارجہ نے "لیک لوسرن سمٹ کے آغاز اور اعلیٰ سطحی کمیٹی کے پہلے اجلاس کا اعلان کیا جس میں امریکہ، اسلامی جمہوریہ ایران اور ثالثی کرنے والی ریاستوں قطر اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نمائندے شریک ہوں گے۔"
وزارت نے امید ظاہر کی کہ یہ ملاقاتیں "ایک جامع اور دیرپا معاہدے کا باعث بنیں گی جس میں مفاہمتی یادداشت میں شامل تمام پہلو حل کیے جائیں گے"۔
آر-فور گروپ پورے خطے میں سکیورٹی، سیاسی اور اقتصادی پیش رفت پر گفتگو کے لیے مارچ سے باقاعدگی سے ملاقات کرتا رہا ہے۔ اسے علاقائی بحرانوں پر رابطہ کاری کرنے اور تناؤ میں کمی کی کوششوں میں پیش رفت کے لیے ایک پلیٹ فارم تصور کیا جاتا ہے۔
پاکستانی وزارتِ خارجہ نے کہا، "پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر ایک زیادہ پرامن، مستحکم اور منسلک خطے کے لیے تعاون کو مزید مستحکم کر رہے ہیں۔"
پاکستانی وزارت کے مطابق دورۂ قاہرہ کے دوران پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار مصر کے وزیرِ خارجہ عبدالعاطی کے ساتھ دوطرفہ مشاورت کریں گے اور توقع ہے کہ وہ صدر عبدالفتاح السیسی سے بھی ملاقات کریں گے۔
دفترِ خارجہ نے کہا کہ ملاقات میں مختلف شعبوں میں پاکستان-مصر تعاون کو وسعت دینے نیز علاقائی و بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلۂ خیال پر توجہ دی جائے گی۔
-
پاکستان پیپلز پارٹی نے امجد حسین کو وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان نامزد کر دیا
وہ پارٹی کے گلگت بلتستان چیپٹر کے صوبائی صدر ہیں
پاكستان -
امریکی ایرانی مذاکرات کی حمایت میں سعودی عرب، مصر، پاکستان اور ترکیہ کا مشترکہ اعلامیہ
سعودی عرب، مصر، پاکستان اور ترکیہ نے ایک مشترکہ چار فریقی اعلامیہ جاری کیا ہے جس ...
مشرق وسطی -
پاکستانی وزیر خارجہ نے "العریبہ" کو امریکہ ایران مذاکرات کے ماحول سے آگاہ کیا
اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان حتمی معاہدے تک پہنچنے پر یقین ...
بين الاقوامى