سوئٹزرلینڈ : لبنان اور منجمد اثاثوں سے متعلق ایران، امریکہ اور قطر کی ملاقات
ایرانی میڈیا کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں تنازع کے خاتمے کے لیے مفاہمت کے فریم ورک کے تحت جاری مذاکرات کے ضمن میں ایک اجلاس کی اطلاع
ایرانی سرکاری میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ تہران، امریکہ اور قطر کے نمائندے سوئٹزرلینڈ میں ایک سہ فریقی اجلاس کر رہے ہیں جس کا مقصد لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ اور ایران کے منجمد اثاثوں پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔ یہ اجلاس مشرق وسطیٰ میں تنازع کے خاتمے کے لیے مفاہمت کے فریم ورک کے تحت ہونے والی متوقع بات چیت کے ضمن میں ہو رہا ہے۔
آج اتوار کے روز ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر کی گئی رپورٹ کے مطابق ایران، امریکہ اور قطر کے درمیان لبنان میں مکمل جنگ بندی اور ایران کے منجمد اثاثوں کے بارے میں ایک سہ فریقی ملاقات وسطی سوئٹزرلینڈ کے ریزورٹ بورگن اشتوک میں مذاکرات کے مقام پر جاری ہے۔
اس سے قبل قطر نے اتوار کی دوپہر بورگن اشتوک میں ایران، امریکہ اور پاکستان کی شرکت کے ساتھ پہلے اجلاس کے آغاز کا اعلان کیا۔ قطر نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حتمی معاہدے پر بات چیت کے لیے تکنیکی اور فنی گروپ تشکیل دیے گئے ہیں۔ ساتھ ہی امید ظاہر کی گئی کہ امریکہ اور ایران کے اجلاس ایک مستقل اور جامع معاہدے کا باعث بنیں گے۔
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان اور وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر ماجد بن محمد الانصاری نے قطر نیوز ایجنسی (قنا) کو دیے گئے بیان میں کہا کہ قطر، ایک ثالث ملک کی حیثیت سے پاکستان اور تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا۔ اس کا مقصد ایک ایسا مثبت ماحول پیدا کرنا ہے جو مذاکرات کو اپنے اہداف حاصل کرنے کے قابل بنائے اور یہ اس پختہ یقین کی بنیاد پر ہے کہ مکالمہ اور سفارت کاری تنازعات سے نمٹنے اور اختلافات کو طے کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
سوئٹزرلینڈ... امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے ایک نئے دور کا مشاہدہ کر رہا ہے جس کا مقصد دونوں فریقوں کے درمیان دستخط شدہ مفاہمت کی یاد داشت کی بنیاد پر مشرق وسطیٰ میں جنگ کا خاتمہ ہے۔ اس سے قبل سوئٹزرلینڈ نے بورگن اشتوک میں وفود کی آمد مکمل ہونے کا اعلان کیا تھا جس میں نائب صدر جے ڈی وینس کی سربراہی میں امریکی وفد، محمد باقر قالیباف کی سربراہی میں ایرانی وفد اور ثالث شامل تھے۔