دونوں جانب سے الزامات اور تنقید پر مبنی باہمی بیانات کے بعد امریکی صدر اور اطالوی وزیراعظم کے درمیان زبانی جنگ شروع ہو گئی ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان نوک جھونک شروع ہوگئی۔ جمعہ کو میلونی نے ٹرمپ کی باتوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی صدر نے جو کچھ کہا وہ محض من گھڑت کہانی ہے۔ اس کے بعد ہفتہ کے روز امریکی صدر نے ایک بار پھر اطالوی وزیراعظم پر طنز کردیا۔ اور میلونی کو پھر جواب دینے پر مجبور ہونا پڑ گیا۔
ٹرمپ نے "ٹروتھ سوشل" پر ایک پوسٹ میں کہا کہ میلونی نے ان سے التجا کی اور بار بار ان کے ساتھ مل کر تصویر کھینچنے کی درخواست کی۔ اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے فرانس میں جی 7 اجلاس کے دوران میرے ساتھ تصویر کھینچنے کی بار بار درخواست کی۔ اطالوی وزیراعظم ملک کے اندر اپنی مقبولیت میں کمی کا شکار ہیں، شاید اس لیے کہ انہوں نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے یا تیار کرنے سے روکنے کے لیے امریکہ کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ وہ ملک ہے جو اٹلی سے واقعی محبت کرتا ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے - ٹرمپ نے کہا نیٹو نے بھی یہی امریکہ کی حمایت سے انکار کیا تھا۔
مقبولیت بہتر بنانا چاہتی ہیں
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ میلونی نے امریکی افواج کو اطالوی رن ویز اور ہوائی اڈوں کو استعمال کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جس سے ایک بڑی لاجسٹک پریشانی پیدا ہوئی۔ حالانکہ امریکہ اٹلی اور دیگر نام نہاد نیٹو اتحادیوں کی حفاظت کے لیے سالانہ سینکڑوں ارب ڈالر خرچ کرتا ہے۔
انہوں نے بات چیت کو ختم کرتے ہوئے کہا کہ اور اب، جب امریکہ نے ایران کو عسکری طور پر شکست دے دی ہے، وہ اپنے نمبروں اور مقبولیت کے تناسب کو بہتر بنانے کے لیے دوبارہ دوستی کی طرف لوٹنا چاہتی ہیں، نہیں شکریہ!!!۔
آپ اپنی مقبولیت پر توجہ دیں: میلونی
دوسری طرف اطالوی وزیر اعظم نے امریکی صدر کی اس تنقید کا جواب دے دیا۔ انہوں نے اس بیان کو غیر منصفانہ اور بے معنی قرار دیا۔ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر اس بات کو دہرایا کہ انہوں نے فرانس میں حالیہ جی 7 سربراہی اجلاس کے دوران ان کے ساتھ تصویر کھینچنے کے لیے التجا کی تھی۔ انہوں نے ٹرمپ کے الزام کے جواب میں اپنے انسٹاگرام پیج پر کہا کہ یہ مسلسل اور غیر منصفانہ حملے بے معنی ہیں۔
میلونی نے یہ بھی کہا کہ آپ کا دوست ہونا یقینی طور پر میری مقبولیت میں اضافے کا باعث نہیں بنا۔ میں تجویز کرتی ہوں کہ آپ اپنی مقبولیت پر توجہ دیں۔ میلونی نے جمعہ کو اپنے سابق امریکی اتحادی پر ان کے بارے میں اس وقت کہانیاں گھڑنے کا الزام لگایا تھا جب ٹرمپ نے ایک اطالوی ٹیلی ویژن چینل کو بتایا تھا کہ انہوں نے سربراہی اجلاس کے دوران ان کے ساتھ تصویر کھینچنے کی التجا کی تھی۔
اطالوی حکومت کی سربراہ نے ایکس اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو میں کہا کہ وہ ان کے تبصروں پر حیران ہیں۔ یہ مکمل طور پر من گھڑت ہیں ۔ میلونی نے ٹرمپ پر روایتی اتحادیوں کے مقابلے میں مغرب کے دشمنوں کے ساتھ کہیں زیادہ نرمی کا مظاہرہ کرنے کا الزام لگایا۔
Io e l’Italia non imploriamo mai. pic.twitter.com/sTpKlqWB67
— Giorgia Meloni (@GiorgiaMeloni) June 19, 2026
انہوں نے غصے بھرے لہجے میں کہاکہ ٹرمپ کے بیانات مکمل طور پر من گھڑت ہیں، میں صرف اتنا کہہ سکتی ہوں کہ یہ مایوس کن ہے کہ وہ مغرب اور امریکہ کے دشمنوں کے حوالے سے اسی عزم کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ اس کے برعکس وہ ان کے رہنماؤں کے ساتھ وہ کہیں زیادہ نرمی سے پیش آتے ہیں۔ ایک بات ہے جو انہیں یاد رکھنی چاہیے، نہ میں اور نہ ہی اٹلی کبھی التجا کرتے ہیں۔
واضح رہے میلونی ماضی میں ٹرمپ کی ممتاز ترین حامیوں میں سے ایک تھیں بلکہ وہ واحد یورپی رہنما تھیں جنہوں نے 2025 میں ان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی تھی۔ تاہم انہوں نے بعد میں پوپ لیو چہاردهم پر ایران کے خلاف جنگ کی مذمت کرنے کی وجہ سے ٹرمپ کے حملے کے بعد ان پر تنقید کی تھی جس پر ٹرمپ کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔