ورلڈ کپ نے امریکہ میں تضاد سے بھرپور منظرنامہ بے نقاب کر دیا: مائیک جونسن

دنیا بھر کے زائرین امریکہ کی ستائش کر رہے ، شدت پسند بائیں بازو کی طرف سے تنقید کی جارہی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی نمائندگان کے ریپبلکن سپیکر مائیک جونسن نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ورلڈ کپ 2026 کی میزبانی ایک مضحکہ خیز اور تضاد سے بھرپور منظرنامہ پیدا کر رہی ہے جہاں دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے شائقین اور زائرین امریکہ کی بے حد تعریف کر رہے ہیں۔ شدت پسند بائیں بازو کے کچھ سیاست دان اس پر تنقید کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

جونسن نے اپنے بیانات کے دوران وضاحت کی کہ زائرین سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز شیئر کر رہے ہیں جن میں وہ امریکی زندگی سے اپنے مسحور ہونے کا اظہار کر رہے ہیں جس کا آغاز "بکیز" کے بڑے سٹورز اور "وافل ہاؤس" کے ریستورانوں سے لے کر ریاست ٹیکساس میں مفت چپس اور ساس کی فراہمی تک ہوتا ہے۔ انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جبکہ شدت پسند بائیں بازو کے ڈیموکریٹس اپنا وقت ملک پر تنقید کرنے میں گزارتے ہیں۔ زائرین سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز کی بھرمار کر رہے ہیں جن میں وہ امریکہ کے لیے اپنی محبت کا اظہار کر رہے ہیں، انہوں نے اس سے پہلے آزادی کا تجربہ نہیں کیا۔ انہوں نے اس جیسی چیزوں کو کبھی نہیں جانا اور وہ انہیں خود اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔

جونسن نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی نظام کی عبقریت خطرہ مول لینے والوں، کاروباری شخصیات، ملازمتیں پیدا کرنے والوں اور اختراع کاروں کو اور ان لوگوں کو نوازنے میں مضمر ہے جو معیشت کو وسعت دیتے ہیں اور مزید لوگوں کے لیے غربت سے نکلنے کے راستے کھولتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ووٹرز سے یہی وعدہ کرتے ہیں، اور یہی ہم فراہم کر رہے ہیں۔

جونسن کے یہ بیانات امریکہ کی جانب سے ورلڈ کپ 2026 کے میچوں کے سب سے بڑے حصے کی میزبانی (کینیڈا اور میکسیکو کے ساتھ شراکت میں) کے تناظر میں سامنے آئے ہیں جس میں 11 امریکی شہروں میں بین الاقوامی شائقین کی بڑے پیمانے پر آمد دیکھی جا رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں