امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نئی تصویر جاری کی ہے، جس میں 100 ڈالر کے کرنسی نوٹ پر ان کے دستخط موجود ہیں۔
یہ اقدام امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے اعلان کے چند ماہ بعد سامنے آیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ کرنسی پر منصبِ صدارت پر موجود شخص کے دستخط شامل کیے جائیں گے۔
ٹرمپ نے یہ تصویر اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ٹروتھ سوشل'' پر شیئر کی، جس میں ان کے دستخط وزیر خزانہ بسنٹ کے دستخط کے اوپر دکھائے گئے ہیں۔
اس سے پہلے 100 ڈالر کے نوٹ پر صرف وزیر خزانہ اور خزانے کے اہلکار کے دستخط ہوتے تھے، مگر صدر کا دستخط شامل نہیں ہوتا تھا۔
مارچ میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بسنٹ نے کہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ امریکہ کے 250 سال مکمل ہونے کی تقریبات کے موقع پر یہ تبدیلی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
اسی طرح خزانے کے اہلکار برینڈن بیچ نے بھی بیان دیا تھا کہ ٹرمپ کی اقتصادی پالیسیوں کے باعث ان کا دستخط کرنسی پر شامل کرنا مناسب اور قابلِ فخر اقدام ہے۔
دوسری جانب کچھ کانگریس ارکان نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ ٹرمپ کی تصویر 250 ڈالر کے یادگاری نوٹ پر لگائی جائے، تاہم اس امکان کو کمزور سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس کے لیے سینیٹ میں وسیع حمایت درکار ہوگی۔
امریکی قانون کے مطابق عام طور پر صرف فوت شدہ شخص کی تصویر کرنسی پر لگائی جا سکتی ہے، تاہم ایک مجوزہ بل میں یہ استثنیٰ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ موجودہ یا سابق صدور کو بھی شامل کیا جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق اس سال کے آغاز میں امریکی محکمہ خزانہ کے حکام 250 ڈالر کے نوٹ کے ابتدائی ڈیزائن بھی تیار کر رہے تھے، جس میں ٹرمپ کی تصویر اور دستخط شامل کیے جانے پر غور کیا گیا تھا۔
دوسری جانب وزیر خزانہ بسنٹ نے مئی میں وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ انہیں کرنسی پر ٹرمپ کی تصویر رکھنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
ان کے مطابق 250 سالہ یادگاری نوٹ پر کسی بھی سابق صدر کی تصویر شامل کرنا نامناسب نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
سی این این کے مطابق ٹرمپ نے اپنی شخصیت اور نام کو مختلف سرکاری و غیر سرکاری چیزوں پر نمایاں کرنے کی پالیسی اختیار کی ہے۔ ان کے دور میں متعدد دستاویزات، سرکاری نشانات اور اداروں میں ان کی تصاویر یا نام شامل کیے گئے۔
رپورٹس کے مطابق ان کی انتظامیہ نے پاسپورٹ یادگاری ڈیزائن، نیشنل پارکس کے داخلہ پاسز اور واشنگٹن میں مختلف وفاقی اداروں کے باہر لگنے والے بورڈز پر بھی ان سے متعلق علامات شامل کیں۔
اسی طرح امریکی انسٹیٹیوٹ آف پیس جیسے اداروں اور بچوں کے لیے مخصوص سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں بھی ان کے نام یا تصاویر کے استعمال کی مثالیں سامنے آئیں۔
فلوریڈا میں پام بیچ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا نام بھی ان کے نام سے منسوب کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جو اس رجحان کی ایک اور مثال سمجھی جا رہی ہے۔