امریکہ کی 250 ویں سالگرہ، ٹرمپ کا امریکی شناخت پر 'حملے' کا انتباہ
امریکیوں کے لیے جشن کے ساتھ ساتھ غور و فکر بھی
امریکہ ہفتہ کو 250 سال کا ہو گیا ہے - ایک تاریخی سالگرہ جو گہری قومی تقسیم کے وقت پر آئی ہے اور صدر تہوار کے مرکز میں عوام کی توجہ حاصل کرنے کے لئے پُرعزم ہیں۔
آزادی کی سالگرہ گرمی کی ایک شدید لہر کے وسط میں آتی ہے جس کی وجہ سے تقریباً 160 ملین امریکیوں کو گرمی کے بڑے یا شدید انتباہات درپیش ہیں اور ملک کے بیشتر قصبات اور شہروں میں طے شدہ پریڈ اور تقاریب متأثر ہونے کا امکان ہے۔
لیکن شدید درجہ حرارت کے باوجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ یقینی بنانے کے لیے کافی پُرعزم ہیں کہ تقریب کا بڑا حصہ ان کی اپنی ذات کے لیے ایک جشن بن جائے۔
ہفتہ کی شام ٹرمپ دارالحکومت واشنگٹن کے نیشنل مال میں مہم طرز کی ایک بہت بڑی سیاسی ریلی کا انعقاد کریں گے جس میں گرجتے ہوئے فوجی طیارے فضا میں پرواز کریں گے اور آتش بازی کا شاندار مظاہرہ ہو گا جسے انہوں نے دنیا کا سب سے بڑا مظاہرہ قرار دیا ہے۔
"یہ تقریباً 107 ڈگری (41C) ہو گا اور میں واقعی ایک طویل تقریر کرنے جا رہا ہوں - صرف یہ طاہر کرنے کے لیے کہ میں کچھ بھی کر سکتا ہوں،" انہوں نے قبل ازیں کہا۔
جمعہ کے آخر میں صدر نے خطاب کے لیے ماؤنٹ رشمور کی قومی یادگار کا دورہ کیا۔
'ہماری سرزمین پر خطرہ'
اگرچہ انہوں نے امریکی انفرادیت اور ملک کے ماضی کے رہنماؤں کی تعریف کی تاہم کہا، امریکی شناخت "ایک نئے حملے کی زد میں ہے۔"
اندرونِ ملک "بنیاد پرستوں اور انتہا پسندوں" کو نشانہ پر لیتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا، "ہماری سرزمین میں کمیونسٹ خطرہ دوبارہ سر اٹھا رہا ہے۔"
جیسا کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اسٹیبلشمنٹ مخالف بائیں بازو نے امریکی بنیادی فتوحات کا سلسلہ جاری رکھا ہے تو یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر ٹرمپ نے حالیہ ہفتوں میں بار بار بات کی ہے۔
نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے صدر نے بائیں بازو کے عروج کو "کمیونسٹ" کے طور پر بیان کیا ہے جو ملک کے لیے ایک بڑا "خطرہ" ہیں۔
جمعہ کو ٹرمپ نے کہا، حالیہ برسوں میں "امریکی جذبہ ختم کرنے، ہمیں ہماری تاریخ سے دور کرنے" کی کوشش کی گئی ہے۔
ماضی کی تقاریر کی نسبت اگرچہ ان کی زبان کم تارکینِ وطن مخالف رہی ہے لیکن بنیادی پیغام واضح تھا۔
"آپ کو یہاں پیدا ہونے کی ضرورت نہیں ہے لیکن آپ کو اس چیز سے پیار کرنا ہو گا جو ہم نے بنایا ہے،" انہوں نے کہا۔
ٹرمپ کی تقریر کا مقام ایک ایسے صدر کے لیے موزوں پس منظر کا حامل تھا جو خود کو عظیم لوگوں میں سے ایک تصور کرتا ہے۔
حتیٰ کہ ٹرمپ کے حامیوں نے قانون سازی بھی کی ہے کہ جارج واشنگٹن، تھامس جیفرسن، ابراہم لنکن اور تھیوڈور روزویلٹ کے ہمراہ ان کا مجسمہ بھی بنایا جائے۔
جشن اور غور و فکر
امریکیوں کے لیے 250 ویں سالگرہ کا تہوار جشن کے ساتھ ساتھ دعوتِ فکر بھی دیتا ہے۔
اڑھائی صدیوں کی فتوحات اور سانحات، غلامی اور آزادی، خانہ جنگی اور عالمی جنگوں کے بعد متعدد جائزے یہ نشاندہی کرتے ہیں کہ ایک قوم اس بات پر منقسم ہے کہ وہ کہاں ہے اور کہاں جا رہی ہے۔
کوئینی پیاک یونیورسٹی کے ایک جائزے کے مطابق 61 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ امریکہ اعلامیۂ آزادی میں بیان کردہ نظریات پر پورا نہیں اتر رہا ہے - اگرچہ اس پر رائے منقسم تھی لیکن زیادہ تر ریپبلکنز کے خیال میں ایسا ہوا اور زیادہ تر ڈیموکریٹس کے خیال میں ایسا نہیں ہے۔
لاس اینجلس میں مقیم آرٹسٹ جانی پریسلے نے کہا، "بہت سے لوگ ہیں جو ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے سے محبت نہیں کرتے۔"
انہوں نے مزید کہا، "میں لوگوں اور غیر ملکی ہمسایوں کے ساتھ اس ملک کے سلوک سے تنگ آ گیا ہوں۔ میں کئی خراب چیزوں سے تنگ ہوں۔"
لیکن اٹلانٹا میں ایک امریکی-ایرانی ماہرِ تعلیم کریسا تواسولی جیسے کئی دوسرے لوگوں کے لیے امریکی خواب کی بنیادی باتیں اب بھی سچ ہیں۔
انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، "میرے پاس تحفظ ہے، بولنے کی آزادی ہے، مذہب کی آزادی ہے، میں ایک عورت کی حیثیت سے جو چاہوں پہن سکتی ہوں۔"
انہوں نے مزید کہا، "یہاں کئی خامیاں ہیں لیکن ہمارے پاس ایک بہت ہی خاص چیز ہے جو تحفظ کے لائق ہے۔"
شوشون-بینوک قبائل کے ایک رکن الونزو کوبی امریکہ کے 250 سال کا جشن منانے کے قابل ہونے پر شکر گذار ہیں۔
"لیکن میں چاہتا ہوں کہ لوگ یہ یاد رکھیں کہ مقامی امریکی یہاں 250 سال سے کہیں زیادہ عرصے سے موجود ہیں،" انہوں نے کہا۔
-
امریکہ کو آبنائے ہرمز میں مداخلت کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے: قالیباف
ایران اور امریکہ کے درمیان تکنیکی مذاکرات کے ایک اور دور کے آغاز کے پیش نظر، ...
مشرق وسطی -
اسرائیل اور امریکہ کا اختلاف لاریجانی کے قتل سے شروع ہوا: حکام کا انکشاف
امریکی حکام کی جانب سے یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ واشنگٹن نے ایرانی وزیر خارجہ عباس ...
مشرق وسطی -
صدر ٹرمپ سے ملاقات کے لیے نیتن یاہو جلد امریکہ جائیں گے
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے فون پر ہونے والی بات چیت میں طے کیا ہے کہ نیتن ...
بين الاقوامى