ترکیہ: شہری نے پبلک پارک میں سابقہ بیوی اور بچی پر گولی چلا دی

ماں جاں بحق ، بچی زخمی، ملزم فرار، ملک بھر میں خواتین کے خلاف جرائم کے حوالے سے بحث شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

شمال مغربی ترکیہ کی ریاست کیرکلاریلی میں پیش آنے والے ایک خوفناک قتل کے واقعے نے خواتین کے خلاف تشدد کے معاملے کو ایک بار پھر بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ ایک شخص نے ایک پبلک پارک کے اندر اپنی سابقہ بیوی اور اس کی بچی پر گولی چلا دی جس کے نتیجے میں ماں ہلاک اور بچی زخمی ہو گئی۔ ملزم جائے وقوع سے فرار ہو گیا۔

یہ جرم شہر کیرکلاریلی کے محلے دیمیرطاش میں پیش آیا جہاں 26 سالہ چیسم چالکنطی اپنی چار سالہ بیٹی اویکو کے ساتھ بچوں کے ایک پارک میں وقت گزار رہی تھی کہ اسی دوران اس کا سابق شوہر وہاں پہنچ گیا۔ ملزم کی شناخت ابتدائی حروف "ی۔ ک" سے کی گئی ہے۔

ترک میڈیا کے مطابق چالکنطی کے سابق شوہر نے اپنے پاس موجود پستول نکالا اور اپنی سابقہ بیوی اور ان کی بیٹی پر کئی فائر کردیے پارک میں موجود لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ملزم اس کے بعد وہ وہاں سے بھاگ نکلا۔

حکام کو اطلاع ملنے کے بعد پولیس اور ایمبولینس کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچیں جہاں ماں اور بچی کو کیرکلاریلی ایجوکیشن اینڈ ریسرچ ہسپتال منتقل کیا گیا۔ تاہم ڈاکٹروں نے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ماں کی موت کا اعلان کر دیا۔ بچی کو اس کے زخموں کی سنگینی کے پیش نظر علاج کے لیے تراکیا یونیورسٹی کے فیکلٹی آف میڈیسن ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کا گھیراؤ کرلیا۔ فرانزک شواہد کی ٹیموں اور پبلک پراسیکیوشن نے ثبوت جمع کرنے اور گواہوں کے بیانات قلمبند کرنے کے لیے جامع تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ دوسری طرف پولیس نے مشتبہ شخص کا سراغ لگانے اور اسے گرفتار کرنے کے لیے وسیع سکیورٹی آپریشن شروع کر دیا ہے۔

خواتین کے قتل کے جرائم

اس جرم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر غصے کی ایک وسیع لہر دوڑا دی ہے اور ترکیہ میں خواتین کے قتل کے معاملے کو دوبارہ سامنے لا کھڑا کیا ہے جو اس پر قابو پانے کے طریقوں کے حوالے سے حکومت اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے درمیان مسلسل بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ ترک انسانی حقوق کی تنظیموں، جن میں "ہم خواتین کا قتل روکیں گے" پلیٹ فارم بھی شامل ہے، کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار سالانہ سینکڑوں خواتین کے قتل کا بتاتے ہیں۔ ان جرائم میں اکثر مجرم موجودہ یا سابقہ شوہر، ساتھی یا خاندان کے افراد ہوتے ہیں۔

دوسری طرف ترک حکام نے زور دیا ہے کہ وہ خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے قانونی اور سکیورٹی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں جن میں تحفظ کے احکامات جاری کرنا اور گھریلو تشدد کے جرائم کے مرتکب افراد کے خلاف سزاؤں کو سخت کرنا شامل ہے۔

استنبول معاہدہ اور جاری بحث

اس طرح کے جرائم کا دہرایا جانا استنبول معاہدے سے دستبرداری کے ترکیہ کے فیصلے پر بحث کو دوبارہ زندہ کر دیتا ہے۔ یہ معاہدہ کونسل آف یورپ کا تیار کردہ ایک معاہدہ ہے جس کا مقصد خواتین کے خلاف تشدد اور گھریلو تشدد کا مقابلہ کرنا ہے۔

ترکیہ 2011 میں اس معاہدے پر دستخط کرنے والا پہلا ملک تھا جس کے بعد 2021 میں صدارتی فیصلے کے ذریعے اس سے دستبرداری کا اعلان کردیا گیا۔ یہ وہ فیصلہ تھا جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور اپوزیشن کی طرف سے بڑے پیمانے پر تنقید کی گئی۔ انسانی حقوق تنظیموں کا ماننا تھا کہ اس دستبرداری سے خواتین کے تحفظ کی کوششیں کمزور پڑ سکتی ہیں۔

دوسری طرف ترک حکومت نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ معاہدے سے دستبرداری کا مطلب خواتین کے تحفظ سے پیچھے ہٹنا نہیں ہے۔ ملکی قوانین، جن میں سب سے نمایاں خاندان کے تحفظ اور خواتین کے خلاف تشدد کی روک تھام سے متعلق قانون نمبر 6284 ہے، اب بھی ان جرائم کے مرتکب افراد کے خلاف قانونی کارروائی اور متاثرین کے تحفظ کے لیے قانونی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

اس کے باوجود خواتین کے خلاف تشدد کا معاملہ ترکیہ میں اب بھی سب سے زیادہ متنازع سماجی معاملات میں سے ایک ہے کیونکہ وقت فوقتاً نئے واقعات کے اندراج کے سائے میں بچاؤ اور تحفظ کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے اور گھریلو تشدد کے جرائم کے مرتکب افراد کے خلاف عدالتی کارروائیوں کو تیز کرنے کے مطالبات دہرائے جاتے رہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں