امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے "پیدائشی شہریت کے حق" کے کیس پر نظرثانی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کے اپنے عزم کا اعلان کردیا ۔عدالت نے گزشتہ ماہ ان کی اس کوشش کو مسترد کر دیا تھا جس میں وہ غیر قانونی تارکینِ وطن کے بچوں اور برتھ ٹورازم کے زائرین کو خودکار طور پر شہریت دینے کے عمل کو ختم کرنا چاہتے تھے۔
سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ ٹرمپ کی جانب سے ان کی مدتِ ملازمت کے پہلے دنوں میں دستخط کیا گیا وہ انتظامی حکم، جس کا مقصد غیر قانونی یا عارضی طور پر موجود والدین کے ہاں امریکہ میں پیدا ہونے والے بچوں کو خودکار امریکی شہریت دینے کا خاتمہ تھا، امریکی آئین کے منافی ہے۔
پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کی جنوبی سرحد اور میکسیکو میں ایسے سائن بورڈز اور اشتہارات پھیلے ہوئے ہیں جو پیدائشی شہریت کی تشہیر کرتے ہیں اور چار ہزار ڈالر سے شروع ہونے والی زچگی کی خدمات پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ یہ صورتحال ناقابلِ برداشت ہے اور کسی نے اس کی توقع نہیں کی تھی۔ امریکی شہریت برائے فروخت نہیں ہے بلکہ یہ ایک جرم ہے۔ اسی لیے سپریم کورٹ کا فیصلہ غلط ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ سے اس کیس پر فوری نظرثانی کی درخواست کریں گے۔
واضح رہے امریکی سپریم کورٹ کے حتمی فیصلوں پر نظرثانی ایک انتہائی نایاب اقدام ہے کیونکہ عدالتی نظائر بتاتے ہیں کہ آخری بار عدالت نے 1965 میں کسی کیس پر نظرثانی کی منظوری دی تھی اور وہ بھی ایک تکنیکی معاملے کو حل کرنے کے لیے تھی نہ کہ پچھلے فیصلے کو مکمل طور پر کالعدم کرنے کے لیے۔
عدالت نے کسی کیس کے اصل متن پر مبنی اپنے فیصلے کو صرف ایک بار منسوخ کیا ہے اور وہ 1956 میں ریڈ بمقابلہ کوورٹ کیس تھا۔ اس کے بعد اگلے ہی سال وہ اس سے بھی پیچھے ہٹ گئی تھی۔
اگرچہ سپریم کورٹ ماضی میں اہم آئینی نظائر کو منسوخ کر چکی ہے جیسا کہ 1954 میں سکولوں میں نسلی علیحدگی کے اصول کو باطل کرنا اور پھر 2022 میں اسقاطِ حمل سے متعلق رو بمقابلہ ویڈ کے فیصلے کو منسوخ کرنا، لیکن یہ تبدیلیاں نئے کیسز کے ذریعے آئیں جنہیں عدالت نے برسوں یا دہائیوں بعد دیکھا، نہ کہ اسی کیس پر نظرثانی کے ذریعے ۔
سپریم کورٹ نے 30 جون کو چار کے مقابلے میں پانچ ججوں کی اکثریت سے فیصلہ سنایا تھا جس کے تحت آئین کی چودہویں ترمیم کی بنیاد پر امریکہ کے اندر پیدا ہونے والے بچوں کو خودکار امریکی شہریت دینے کا سلسلہ جاری رہے گا چاہے ان کے والدین غیر قانونی یا عارضی طور پر ہی کیوں نہ موجود ہوں۔
فیصلے کے بعد ٹرمپ نے کہا تھا کہ کانگریس ایک ایسا قانون پاس کر سکتی ہے جو غیر قانونی تارکینِ وطن کے بچوں اور "برتھ ٹورازم" کے زائرین کی شہریت کا خاتمہ کر دے تاہم قانونی ماہرین کی اکثریت کا خیال ہے کہ مستقبل کے عدالتی چیلنجز سے بچنے کا واحد طریقہ آئین میں ترمیم کرنا ہے۔ اپنی پوسٹ میں ٹرمپ نے اس فیصلے کو "انصاف کا قتل" قرار دیا اور خبردار کیا کہ اگر اسے تبدیل نہ کیا گیا تو یہ فیصلہ امریکہ کو تباہ کر دے گا۔
ایک الگ تناظر میں ٹرمپ کی قانونی ٹیم سپریم کورٹ پر اس بات کے لیے بھی دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ اس اپیل کو مسترد کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کرے جو انہوں نے مصنفہ ای جین کیرول کو ہتکِ عزت کے کیس میں 5.3 ملین ڈالر ادا کرنے کے حکم کو منسوخ کرنے کے لیے دائر کی تھی۔