پاکستان کا اسلام آباد میں او آئی سی کانفرنس میں افغان خواتین کے حقوق کے لیے دباؤ
او آئی سی کی حتمی قرارداد سے افغان خواتین اور لڑکیوں پر طالبان کی پابندیاں ختم ہونے کی امید
پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے قانون عقیل ملک نے اتوار کو افغان خواتین کے حقوق اور اس حوالے سے مسلم دنیا کی اجتماعی ذمہ داری کو اسلام آباد میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے دو روزہ سربراہی اجلاس کے ایجنڈے کے مرکز میں رکھا اور قدامت پرست ملک میں خواتین کی حالتِ زار پر روشنی ڈالی۔
حقوقِ نسواں پر پیشرفت کا جائزہ لینے، قومی پالیسیوں کا اشتراک کرنے اور خواتین سے متعلق نویں وزارتی کانفرنس میں نیا فریم ورک اپنانے کے لیے پاکستان اس تنظیم کے 57 رکن ممالک کے مندوبین کی میزبانی کر رہا ہے جو 12-13 جولائی کو اسلام آباد میں منعقد ہو رہی ہے۔ اس کا موضوع ہے: "رکن ممالک میں خواتین کی سماجی، اقتصادی اور سیاسی بااختیاریت: چیلنجز اور آئندہ کے راستے"۔
طالبان نے 2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد سے خواتین کو پرائمری سکول سے آگے تعلیم حاصل کرنے سے روک دیا، ان پر عوامی پارکوں میں جانے پر پابندی لگا دی اور عدلیہ اور عوامی دفاتر سے متعدد سخت پابندیوں کے ذریعے ان کا منظم طریقے سے خاتمہ کر دیا ہے۔
طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد سے افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کو درپیش پابندیوں کی سنگینی کو نمایاں کرتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ مملکت نے نوٹ کیا کہ افغان سفارتی نمائندوں کی سربراہی اجلاس میں شرکت کی توقع تھی۔
عرب نیوز کو ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا، "آپ کو واقعتاً افغانستان میں ان لڑکیوں کی حالتِ زار دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ان پر سکولوں اور کلاسز میں جانے پر پابندی ہے۔ یہ ایک تشویشناک صورتِ حال ہے۔" انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ او آئی سی کو "تبدیلی" کے لیے اپنی اجتماعی آواز کا فائدہ اٹھانا چاہیے۔
"اگر ہم خواتین کو بااختیار بنانے کی بات کرتے ہیں تو یہ [افغانستان کی صورتِ حال] ایک سب سے بڑا چیلنج ہے۔"
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) کے مطابق ستمبر 2021 میں لڑکیوں کی ثانوی تعلیم پر پابندی سے 2025 تک 2.2 ملین افغان لڑکیاں ثانوی تعلیم سے محروم ہو چکی ہیں۔ اگر یہ پابندی 2030 تک برقرار رہی تو یہ تعداد 40 لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے۔
ملک نے اس یقین کا اظہار کیا کہ او آئی سی سربراہی اجلاس کی حتمی قرارداد یہ مسئلہ واضح طور پر حل کرے گی۔
انہوں نے کہا، "یقیناً اس کانفرنس سے جو قرارداد سامنے آئی ہے وہ افغانستان میں ان نوجوان لڑکیوں کی حالت زار کو نمایاں کرے گی جنہیں تعلیمی اداروں، کتابوں اور تعلیم سے دور رکھا جا رہا ہے۔"
تقریب کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کانفرنس کو پاکستان کی عالمی سفارتی حیثیت کے لیے ایک "اہم موقع" قرار دیا اور زور دیا کہ گفتگو کو بیان بازی سے آگے بڑھ کر مرکزی دھارے کے سماجی و اقتصادی کرداروں میں خواتین کی عملی شمولیت پر مرکوز کیا جائے۔
"خواتین کو اگر آپ مذہبی طور پر بھی بات کریں تو ہمارے صحائف میں کئی حقوق دیے گئے ہیں۔ ہمیں واقعی ان پر عمل کرنے، خواتین کو اپنی روزمرہ کی زندگیوں میں شامل کرنے اور وہ عزت، وقار اور شمولیت فراہم کرنے کی ضرورت ہے،" انہوں نے مشاہدہ کیا۔
کانفرنس میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے بہترین علاقائی و عالمی طریقوں پر بات ہو رہی ہے۔
"ہمیں اس سے جو حاصل ہونے کی توقع ہے، وہ ہے آگے بڑھنے کا راستہ اور رکن ممالک کے اندر ایک اجتماعی عزم، ایسا بہترین طرزِ عمل جس کی وہ پیروی کر رہے ہیں اور جن مسائل یا چیلنجز کا انہیں سامنا ہو سکتا ہے اور یہ کہ ہم ان پر کیسے قابو پا سکتے ہیں کیونکہ یہ او آئی سی کے تمام ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے،" پاکستانی وزیرِ مملکت نے کہا۔
خطے میں خواتین کی ترقی سے متعلق ملِک نے سعودی عرب کے وژن 2030 کے اہم کردار کو نمایاں کیا کہ مسلم دنیا میں کیا ممکن ہے۔
انہوں نے کہا، "سعودی عرب کے وژن 2030 کے ساتھ گذشتہ کئی سالوں میں کئی مثبت تبدیلیاں آئی ہیں اور خواتین اب مرکزی دھارے کے محکموں میں ہیں۔"
نیز کہا، "ہم ان پالیسیوں پر کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ہمارے اصولوں کے مطابق ہیں اور دیگر رکن ممالک کے لیے راہ ہموار کر رہے ہیں۔"
پاکستان کے وزیرِ مملکت نے کہا، "اگر آپ مسلم دنیا اور خاص طور پر او آئی سی ممالک کو دیکھیں تو خواتین کئی شعبوں میں قیادت کر رہی ہیں خواہ وہ ٹیکنالوجی ہو، مالیاتی شعبہ ہو یا ڈیجیٹل معیشت میں موجودگی ہو، وہ ان تمام شعبوں میں موجود ہیں۔"
نیز کہا، "[لیکن] جب ہم برابری کی اور مرکزی دھارے میں لانے کی بات کرتے ہیں خاص طور پر خواتین کے حوالے سے تو ہمیں انہیں زندگی کے تمام شعبوں میں اور حقیقت میں شامل کرنے کی ضرورت ہے اور کسی بھی طرح سے یہ محض ظاہری شمولیت نہ ہو۔ ہمیں درحقیقت بامعنی شمولیت کی ضرورت ہے۔"
-
پاکستان کا سابق امیرِ قطر شیخ حمد بن خلیفہ آلِ ثانی کے انتقال پر اظہارِ تعزیت
پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے اتوار کے روز سابق قطری امیر شیخ حمد بن ...
مشرق وسطی -
نئی چار سالہ پالیسی کے تحت تین لاکھ آٹھ ہزار پاکستانیوں کی رجسٹریشن مکمل
طویل المدت حج پالیسی 2027-2030 کے لیے اندراج تین ہفتے قبل شروع ہوا
پاكستان -
پاکستان کے لیے نیا سنگِ میل، دنیا کے ایک سب سے بڑے کنٹینر جہاز کا کراچی بندرگاہ پر قیام
دنیا کا ایک سب سے بڑا کنٹینر بحری جہاز اتوار کو کراچی پورٹ پر پہنچا۔ جیسا کہ ملک ...
پاكستان