سوڈان: الجنینہ میں انسانیت کیخلاف جرائم، حمیدتی کو غیر حاضری میں سزائے موت سنا دی گئی
جنگ کے آغاز کے بعد پہلے عدالتی فیصلے میں آر ایس ایف کے کمانڈر کے دو بھائیوں اور دیگر 13 افراد کو بھی سزا سنائی گئی
ایک سوڈانی عدالت نے ریپڈ سپورٹ فورسز کے کمانڈر محمد حمدان دقلو "حمیدتی"، ان کے دو بھائیوں عبدالرحیم اور القونی دقلو اور 13 دیگر ملزمان کو انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کا مجرم قرار دیتے ہوئے ان کی غیر حاضری میں موت کی سزا سنا دی ہے۔
یہ سوڈان میں جنگ کے آغاز کے بعد سے ریپڈ سپورٹ فورسز کے کمانڈر کے خلاف جاری ہونے والا پہلا عدالتی فیصلہ ہے۔
الجنینہ کیس
سوڈان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (سونا) نے رپورٹ کیا کہ عدالت نے ملزمان کو مغربی دارفور کے گورنر خمیس ابکر کے قتل اور 2023 میں الجنینہ شہر میں ہونے والے حملوں کے پس منظر میں سزا سنائی۔ ان حملوں میں تقریباً 15,000 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
الجنینہ کے واقعات جنگ کے خونریز ترین ابواب میں سے ایک ہیں کیونکہ سوڈانی حکام ریپڈ سپورٹ فورسز پر شہر کو نشانہ بنانے والے بڑے پیمانے پر حملے کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔ ان حملوں میں میں مسالیت قبیلے کے لوگوں کا قتل اور بے دخلی شامل ہے۔ بین الاقوامی اندازوں کے مطابق متاثرین کی تعداد 10,000 سے 15,000 ہلاک شدگان کے درمیان ہے۔
بین الاقوامی تعاقب
عدالت نے بین الاقوامی فوجداری پولیس (انٹرپول) سے رابطہ کرنے کا حکم دیا تاکہ ان ممالک کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کی جا سکے جہاں سزا یافتہ افراد کے موجود ہونے کا شبہ ہے تاکہ ان کی حوالگی کے اقدامات کی تیاری کی جا سکے۔ دوسری طرف ریپڈ سپورٹ فورسز نسل کشی کے جرائم کے ارتکاب یا ان پر لگائے گئے الزامات کی ذمہ داری سے انکار کر رہی ہے۔
تحقیقاتی کمیٹی
یہ فیصلہ ان تحقیقات کے بعد آیا ہے جو اگست 2024 میں خودمختار کونسل کے سربراہ اور فوج کے کمانڈر عبدالفتاح البرہان کی طرف سے جاری کردہ ایک فیصلے سے شروع ہوئی تھیں۔ اس فیصلے کے تحت اٹارنی جنرل کی سربراہی میں ریپڈ سپورٹ فورسز سے منسوب جرائم کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی۔ اس کے بعد یہ کیس 2025 کے دوران عدالت میں بھیجا گیا تھا۔
جاری جنگ
یاد رہے البرہان کی قیادت میں سوڈانی فوج اور حمیدتی کی قیادت میں ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان اپریل 2023 میں فوج میں ریپڈ سپورٹ فورسز کے انضمام اور عبوری دور کے انتظامات پر اختلافات کے بعد جنگ چھڑ گئی تھی۔
اس سے قبل دونوں فریق اکتوبر 2021 کے بغاوت میں شراکت دار تھے جس نے سویلین جزو کے ساتھ شراکت داری کو ختم کر دیا تھا۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس تنازعے کے نتیجے میں دسیوں ہزار افراد جاں بحق اور 14 ملین سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں۔ اس جنگ سے دنیا کا بدترین انسانی بحران پیدا ہوا ہے۔
آئینی ترمیم
مارچ 2025 میں البرہان نے 2019 کی آئینی دستاویز میں ترامیم کیں جس میں خودمختار کونسل اور فوجی عدالتوں کو منظم کرنے والے مضامین سے ریپڈ سپورٹ فورسز کے تمام حوالوں کو حذف کرنا شامل تھا۔ یہ ایک ایسا اقدام ہے جو جنگ چھڑنے کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان مکمل علیحدگی کی عکاسی کرتا ہے۔