یمن کی قوات العمالقہ نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ آبنائے باب المندب میں ایک کشتی کو روک کر قبضے میں لیا گیا، جس میں اسلحہ سازی میں استعمال ہونے والا مواد اور جدید آلات موجود تھے۔ یہ سامان حوثیوں تک صوبہ الحدیدہ پہنچایا جا رہا تھا۔
منگل کی شام جاری بیان کے مطابق باب المندب کے سیکٹر میں تعینات قوات العمالقہ کی بحری گشتی ٹیموں نے خفیہ معلومات اور مسلسل نگرانی کے بعد کشتی کو روکا اور اس کے عملے کو گرفتار کر لیا۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ عملہ حوثیوں سے وابستہ اسمگلنگ نیٹ ورک کا حصہ تھا۔قوات العمالقہ کے مطابق متعلقہ حکام نے ضبط شدہ سامان کی جانچ اور قانونی کارروائی شروع کر دی ہے، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ضبط کیے گئے مواد اور آلات کی تفصیلات جاری کی جائیں گی۔
ابتدائی اندازوں کے مطابق اس کھیپ میں ایسے پرزے اور سامان شامل ہیں، جو فوجی سازوسامان کی تیاری میں استعمال ہو سکتے ہیں۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب مسلسل خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ دوہرے استعمال (Dual-use) کے مواد، ڈرونز، میزائلوں اور حملہ آور کشتیوں کی تیاری میں استعمال ہونے والے پرزے پیچیدہ سمندری راستوں کے ذریعے یمن اسمگل کیے جا رہے ہیں، جہاں طویل ساحلی پٹی اور متعدد غیر قانونی راستے اسمگلروں کے لیے سہولت فراہم کرتے ہیں۔
قوات العمالقہ نے کہا کہ یہ کارروائی ساحلی علاقوں کو محفوظ بنانے، اسمگلنگ کی روک تھام اور ان سمندری رسد کے راستوں کو منقطع کرنے کی جاری مہم کا حصہ ہے، جنہیں ان کے بقول ایران کی جانب سے حوثیوں کی معاونت کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
مبصرین کے مطابق اس نوعیت کی کھیپوں کی مسلسل ضبطی اس بات کا اشارہ ہے کہ اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف انٹیلی جنس اور بحری کارروائیاں مزید مؤثر ہو رہی ہیں۔
ان کے نزدیک سمندری گزرگاہوں کا تحفظ صرف بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے ہی نہیں بلکہ ایسے مواد کی ترسیل روکنے کے لیے بھی ضروری ہے، جو حوثیوں کی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کر سکتا ہے، خصوصاً بحیرۂ احمر اور باب المندب میں جاری سیکیورٹی کشیدگی کے تناظر میں۔