سلامتی کونسل اجلاس کے میں امریکہ اور چین میں نوک جھونک

حوثیوں کو اسلحہ کی فراہمی روکنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکہ نے یمنی حکومت اور خلیجی ممالک کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے حوثی ملیشیا کو ایران کی جانب سے ملنے والی حمایت کو خطے کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی مندوب نے کہا کہ ایران اور حوثی ملیشیا تجارتی جہازوں پر حملے کر کے خطے کے استحکام کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ گذشتہ روز یمنی فضائی حدود میں داخل ہونے والا ایرانی طیارہ حوثیوں کو اسلحہ پہنچانے کے لیے استعمال کیا گیا، جسے ایک اور مقصد کی آڑ میں چھپایا گیا۔ امریکی مندوب نے زور دیا کہ ایران اور حوثیوں کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری کرنی چاہیے اور حوثیوں کو اسلحہ کی فراہمی روکنے کے لیے فوری تدابیر اختیار کی جانی چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور حوثیوں کے زیرِ استعمال 70 فیصد دہرا استعمال ہونے والا سامان چین سے آتا ہے اور امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں تعمیری سفارت کاری پر کاربند ہے۔

دوسری جانب چینی مندوب نے تمام تر کشیدگی کا ذمہ دار امریکہ کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے کی موجودہ کشیدگی بحیرہ احمر کی صورتحال کو متاثر کر رہی ہے اور انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں چین کے کردار پر امریکی الزامات کو سختی سے مسترد کیا۔

ادھر فرانس اور بحرین کے مندوبین نے بین الاقوامی جہاز رانی کو لاحق حوثی خطرات کو ختم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے ایک ٹھوس اور سخت موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

جہاز رانی کی سکیورٹی اور علاقائی استحکام

اقوامِ متحدہ میں امریکی نائب مندوب سفیر ٹامی بروس نے ہنگامی اجلاس کے دوران کہا کہ ان کا ملک یمن تنازعہ کے پرامن حل اور بین الاقوامی سکیورٹی کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب ذرائع بشمول پابندیاں استعمال کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی نظام حوثی دہشت گرد گروہ کی حمایت اور یمنی خودمختاری کی خلاف ورزی جاری رکھے ہوئے ہے، جو امن کی کوششوں کو سبوتاژ کر رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 3 جولائی کو تہران سے صنعاء آنے والا ایک ایرانی طیارہ دراصل پاسدارانِ انقلاب کے عناصر اور ڈرون و میزائل ماہرین کو لایا تھا، تاکہ حوثیوں کو عسکری مدد فراہم کی جا سکے۔ یہ سب کچھ سابق ایرانی سپریم لیڈر کی آخری رسومات میں شرکت کے بہانے کیا گیا۔ بروس نے کہا کہ یہ کارروائی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2216 کی صریح خلاف ورزی ہے جو حوثیوں کو کسی بھی قسم کا عسکری سامان یا تربیت دینے پر پابندی عائد کرتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ حوثیوں نے ایرانی مدد سے اپنی عسکری صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جس کا ثبوت سرحد پار میزائل حملے اور کلسٹر بموں کا استعمال ہے۔ انہوں نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کو واضح پیغام دے کہ بین الاقوامی قانون کی بار بار خلاف ورزی ناقابلِ قبول ہے اور اسے فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔

یاد رہے کہ پیر کی صبح یمنی حکومت کی واضح ہدایات کے باوجود ایک ایرانی طیارہ یمنی فضائی حدود میں داخل ہوا تھا، جس کے بعد کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں