امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بعض ممالک کے لیڈروں کی ایک مخصوص ماحول میں تعریف و تحسین کرنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے منگل کے روز کہا ہے کہ عراقی وزیر اعظم وہ شخص ہے جو مشرق وسطیٰ میں ایسا کردار ادا کرنے جا رہے ہیں جو عراق سے باہر بھی غیر معمولی ہوگا۔ انہوں نے عراق کے وزیر اعظم علی الزیدی کے بارے میں ان خیالات کا اظہار وائٹ ہاؤس میں ان کی میزبانی کرتے ہوئے کیا۔
صدر ٹرمپ نے اپنی ٹیم کے سامنے اور عراقی وزیر اعظم کو ساتھ بٹھا کر ان کی تعریف کی ۔ یہ تعریف ایسے موقع پر ہوئی جب امریکہ عراق میں سرمایہ کاری کو وسعت دینے کے علاوہ واشنگٹن بغداد معاہدہ کو مضبوط تر کرنے جا رہا ہے۔
یاد رہے چند ماہ قبل جب عراق میں نئے وزیر اعظم کا انتخاب کیا جانا تھا تو امریکہ نے کھل کر وزارت عظمیٰ کے منصب کے امیدوار ریاض المالکی کی سخت مخالفت کر کے انہیں ایک بار پھر وزیر اعظم بننے نہیں دیا تھا۔ جبکہ ان کی جگہ علی الزیدی کو بطور وزیر اعظم قبول کیا تھا۔
امریکہ نے ریاض المالکی کے ممکنہ امیدوار بننے کے تناظر میں کہا تھا اگر مالکی وزیر اعظم بنائے تو امریکہ عراق کے ساتھ تعاون سکیڑ دے گا۔ ریاض المالکی کو ایران کا حامی مانا جاتا ہے۔ اس لیے امریکہ نے انہیں وزارت عظمیٰ تک پہنچنے سے روک دیا تھا۔
ٹرمپ نے علی الزیدی کو منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں خوش آمدید کہا۔ ان کا عراقی وزیر اعظم کے بارے میں پر جوشی پر مبنی اظہار اسی طرح سامنے آیا جیسے اس سے پہلے بعض دیگر ملکوں کے قائدین کے لیے تحسین کے ڈونگرے برساتے ہوئے کر چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہم عراق سے پیار کرتے ہیں اور یہ شخص اسی عراق کی نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نے وزارت عظمیٰ کا بڑا الیکشن جیتا ہے۔
ذن کا مزید تعریف کرتے ہوئے کہنا تھا یہ عراق کے اچھے نمائندے ہیں۔ ٹرمپ نے ان خیالات کا اظہار اوول آفس میں جاتے ہوئے رپورٹروں کے ساتھ بات چیت میں کیا۔ اس موقع پر عراقی وزیر اعظم علی الزیدی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ اوول آفس میں ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے رپورٹرز سے بھی بات چیت کی۔ ٹرمپ نے کہا عراقی وزیراعظم کے ساتھ وہ اب ظہرانے پر بھی بات چیت جاری رکھیں گے۔
انہوں یہ بھی بتایا یہ ظہرانہ پہلے سے طے شدہ نہیں تھا۔ خیال رہے کچھ عرصے سے صدر ٹرمپ اپنے بھروسے کے عالمی رہنماؤں کی عزت افزائی کے لیے انہیں وائٹ ہاؤس میں ظہرانہ کراتے ہیں۔ انہوں نے کہا یہ ہے وہ شخص جو آنے والے دنوں میں عراق سے باہر پورے خطے میں ایک عظیم لیڈر کے طور پر کردار ادا کرے گا۔ اس کا اثر رسوخ پورے مشرق وسطیٰ میں پھیلنے والا ہے۔
ایران
انہوں نے عراق میں لبنان کی طرح ہتھیاروں پر صرف سرکاری فوج کی اجارہ داری کا ذکر کیا اور کہا یہ ایسی آپشن نہیں ہے جس سے دستبردار ہوا جا سکتا ہو۔
وزیر اعظم عراق الزیدی نے اپنی گفتگو میں کہا وہ ہتھیاروں پر حکومتی اجارہ داری کے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ عراق کو کسی مسلح گروہ کی ضرورت 30 ستمبر کے بعد نہیں ہو گی۔ کیونکہ اسی تاریخ سے امریکی افواج کا عراق سے انخلا ہونا ہے۔
اس موقع پر ٹرمپ نے ایران کا نام لے کر کہا ایران کو ہم نے اس قدر کمزور کردیا ہے کہ وہ اب خطے میں کسی ملک کو دھمکانے کے ابل نہیں ہو سکے گا۔
تیل
اوپیک میں تیل کی فروخت کے بارے میں ایک سوال پر عراقی وزیر اعظم نے کہا عراق نے ایک جائز حق دینے کی بات کی ہے۔ اس سلسلے میں صدر ٹرمپ نے کہا عراق اپنے تیل کی بدولت شاندار پوٹینشل کا حامل ملک ہے۔ ہم عراق کے ساتھ بہت سارے معاہدے کرنے والے ہیں۔ دونوں ملکوں کے لوگوں کے لیے ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا کیے جائیں گے۔
امریکی صدر نے کہا امریکی وزیر توانائی اس سلسلے میں جلد ہی کچھ اعلانات کریں گے۔ بہت سا تیل آرہا ہے اور اب امریکی کمپنیاں اس سلسلے میں اہم کام کر رہی ہیں۔ وہ کسی اور کے ساتھ کام نہیں کرنا چاہتے بلکہ امریکہ کے ساتھ بزنس کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بہت اچھی بات ہے۔